لکھنؤ،20مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)بھارت رتن ایوارڈ سے سرفراز مولانا ابوالکلام آزاد کے نزدیک سوراج اور آزادی سے زیادہ قیمتی سرمایہ ہندو مسلم اتحاد تھا۔وہ مسلمانوں کومذہب پر قائم رہتے ہوئے جنگ آزادی میں حصہ لینے کی دعوت دیتے تھے۔ ان کا دائرہ ادب، سیاست، مذہب، تاریخ اور فلسفے کے میدان تک پھیلا ہواتھا۔مولاناآزادکی نظریہئ باہمی ہم اہنگی کی آج اشد ضرورت ہے۔مولانا آزاد محب اردوزبان بھی تھے، اردو کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے دوران مولانا آزاد نے ہندوستانی زبان کو سرکاری کام کاج کی زبان بنانے کی حمایت کی تھی مگر ملک کے بٹوارے کے بعد مولاناکااردو کا دعوی کمزورپڑ گیا۔ان خیالات کا اظہاراودھ ویلفیئر فاؤنڈیشن وقومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے اشتراک سے جے شنکرپرساد ہال،قیصرباغ میں منعقد سیمیناربعنوان’مولانا ابوالکلام آزاد‘ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔سمینار کے آغاز میں اودھ ویلفیئر فاؤنڈیشن کی صدر اور کنوینر پروگرام صبیحہ سلطانہ نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے انہیں گلدستے پیش،اوراپنے استقبالیہ خطبے میں صبیحہ سلطانہ نے مہمانوں کے استقبال کے بعد سوسائٹی کے اغراض ومقاصد اور روز اول سے آج تک کا سوسائٹی کا سفر تفصیل سے بیان کیا اور مستقبل کے عزائم بھی ظاہر کئے،اور اپنے بہی خواہوں اور محبان اردو کا بھی شکریہ اداکیا۔اس موقع پر استقبالیہ کمیٹی کی صدر شحکثما سلطانہ اور کوآرڈیٹررضیہ پروین،اورضیاء اللہ صدیقی نے بھی مہمانوں کا استقبال گلدستہ پیش کر کے کیا۔سمینار کا آغاز تلاوت کلام پاس سے کیا گیا۔اس کے قمرسیتاپوری،عبدالنعیم قریشی نے نعت پاک سے ماحول کومنورکردیا۔سمینار میں خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی سابق ریاستی وزیرانیس منصوری نے وڈاکٹر تسنیم کوثراسسٹنٹ پروفیسر کرامت حسین گرلس کالج نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کے طور پر دنیا میں شناخت بنانے والے محی الدین احمد کی مذہبی معلومات کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اخبار الہلال میں ان کے تحریرکردہ مضامین غیبی آواز کی مانند مسلم قوم کو متاثر کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد مسلمانوں کو مذہب کی راہ سے جنگ آزادی میں کود پڑنے کی دعوت دیتے تھے۔ مولانا کی مادری زبان عربی تھی لیکن ان کی اردو تحریریں بھی لاجواب تھیں۔ ان کے الفاظ کا ایک طلسم ہوتا تھا۔ آزاد کا دائرہ ادب، سیاست، مذہب، تاریخ اور فلسفے کے میدان تک پھیلا ہواتھا۔انہوں نے کہا کہ قومی اتحاد کے تعلق سے مولانا آزاد کی کوششوں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ ان میں اسے لے کر کتنی تڑپ تھی۔ مولانا نے رام گڑھ میں منعقد ایک بین الاقوامی کانفرنس میں کہا تھا کہ اگر آج ایک فرشتہ آسمان سے اتر آئے اور دہلی کے قطب مینارسے یہ اعلان کرے کہ سوراج 24 گھنٹے کے اندر حاصل کر سکتا ہی، بشرطیکہ ہندو مسلم اتحاد ختم ہو جائے تو میں سوراج کے بجائے قومی اتحاد کو منتخب کرونگا۔مہمان اعزازی مولانا عبداللہ چترویدی(ویداچاریہ)اور قدرت اللہ(بانی لال بہادر شاستری انٹرکالج) نے کہا کہ آج جو لوگ مسلمانوں کو قومیت کے سبق پڑھا رہے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ مولانا آزاد کا سبق پڑھ کر وہ اپنے ایمان کو تازہ کر سکتے ہیں۔ مولانا آج ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن دہلی کی جامع مسجد کے در و دیوار ہندوستان کے مسلمانوں کو جاگتے رہنے کی ہدایت دے رہے ہیں۔ مولانا کا کہنا تھا کہ اگر آپ جاگنے کے لیے تیار نہیں تو کوئی بھی طاقت آپ کو جگا نہیں سکتی،مولانا عبداللہ چترویدی نے مزید کہاکہ کہ مولانا آزاد کی شخصیت کے سینکڑوں پہلو تھے۔مولانا ابوالکلام آزاد کے نظریہ پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد کی مذہبی، سماجی اور تعلیمی کارکردگی اس بات کی گواہ ہیں کہ وہ سماجی اتحاد کے پیروکار تھے۔مولانا آزاد ایک عہد ساز شخصیت کا نام ہے،وہ علامہ شبلی کے فیض یافتہ، انکی فکر کے نمائندے،دین کے پرجوش داعی، اور فکر ندوہ کے ترجمان تھے،انھوں نے علمی اور ثقافتی سطح پر ایسی قابل ذکرخدمات انجام دیں، جوہندوستان کے لئے طرہ ئ افتخار ہیں،انکی سیاسی بصیرت،ہندومسلم اتحاد کا نظریہ وطن کے لئے بے انتہاقربانیوں کا تسلسل کی افادیت آج بھی محسوس کی جارہی ہے۔مقالہ نگار صحافی ضیاء اللہ صدیقی اورنثاراحمدجنرل سیکرٹری نیوکلیس سوسائٹی نے مولانا ابوالکلام آزاد اور جدید اردو صحافت پر کہا کہ محض 12 سال کی عمر میں مصباح اخبار کے ایڈیٹر مولانا آزاد جدید اردو صحافت کے روح رواں تھے۔ وہ سیاست اور معاشرے میں مکمل تبدیلی چاہتے تھے۔ اردو صحافت کوبلندی پر پہنچانے کی کوشش تو سرسید احمد خاں نے کی تھی۔مولانا آزاد ان سے بہت متاثر تھے لیکن آگے چل کر مولانا نے اپنی راہ خود منتخب کی۔انہوں نے کہا کہ مولانا نے اپنے ایک مضمون میں اخبارات کو زندہ ہادی قرار دیا تھا۔ مولانا صحافت کو آزاد اور خودمختار بنانا چاہتے تھے۔ وہ دوسرے فریقوں کی مالی مدد سے چلنے والے اخبارات اور رسالے کو صحافت پر بدنما داغ سمجھتے تھے۔ مقالہ نگار وصحافی غفران نسیم اور ڈاکٹرعبدالقدوس ہاشمی نے کہا کہ مولانا نے الہلال اخبار کو خوبصورت بنانے کے لئے تصاویر پر بھی زور دیا۔ وہ پہلا اردو اخبار تھا جس میں تصاویر کا استعمال کیا گیا۔ مولانا آزاد نے اردو صحافت کو ایک فکر دی، مگر افسوس کی بات ہے کہ مولانا نے جو چراغ روشن کیا تھا وہ مدھم پڑ رہا ہے۔ اردو صحافت کا معیارگر رہا ہے۔ موجودہ اردو صحافت کو دوبارہ اپنا وقار حاصل کرنے کیلئے مولانا کی وراثت کو اپنانا ہوگا۔ سیمینار کی نظامت کرتے ہوئے ڈاکٹر شبانہ اعظمی اورعبدالنعیم قریشی نے مشترکہ طور پرکہا کہ ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم تھے۔ مولانا آزاد کی شخصیت کے تین پہلو ہیں۔ سب سے پہلے، وہ ایک ماہر تعلیم تھے۔ دوسرے، وہ ایک بہت اچھے ادیب تھے اور تیسرے، سیاسی اعتبار سے ان کی شخصیت مثالی تھی۔ مولانا آزاد نے ہی ہندوستان کے بٹوارے کے وقت ملک سے جانے والے مسلمانوں کو تاریخی تقریر کرکے روکا تھا۔ مسلم قوم کو ان کا احسان مند ہونا چاہیے۔
سمینارکے دیگر مقررین ماسٹر قمرالھدی،شہریارجلالپوری،ارجن پنڈت،الیاس منصوری،ڈاکٹرشوبھا ترپاٹھی،رمضان سیتاپوری وغیر ہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کی پو ری زندگی سراپا جہد و پیکار سے پُر ہیں، آپ کی شخصیت کے بہت سے پہلونظرآتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مولانا آزادایک ماہرتعلیم،ادیب،اسکالر، مفکر، دانشور، صدق ووفا کے پیکر،مجاہدآزادی،محب وطن اور کامیا ب سیاسی رہنما کی حیثیت سے جا نے جاتے ہیں۔ سمینار میں شہریارجلال پوری،ڈاکٹرعبدالقدوس ہاشمی،شوبھاترپاٹھی،کواعزازسے اورتمام مقالہ نگاران کوسرٹیفیکٹ دیکر اعزاز سے نوازاگیا۔سمینار کے آخر میں کنوینر پروگرام وسوسائٹی کی صدر صبیحہ سلطانہ نے مہمانوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہمیں آپ تمام محبان اردو سے امید ہے کہ آپ سبھی حضرات مستقبل میں بھی ہماری اور ہماری سوسائٹی کی رہنمائی فرماتے ہیں گے۔اس کے بعد اودھ ویلفیئر فاؤنڈیشن کی جانب سے شاندارظہرانے کاانتظام کیا گیااورپھراسی کے ساتھ ہی انہوں نے پروگرام کے ختم کا اعلان بھی کیا۔