حیدرآباد 29 نومبر (ایس او نیوز) تلنگانہ میں ۳۰ نومبر کو منعقدہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظرسیاسی پارٹیوں کی طرف سے انتخابی تشہیری مہم ختم ہوچکی ہیں جس میں کانگریس اور بی جے پی سمیت حیدرآباد کی مقامی پارٹیاں بھی الیکشن میں جیت درج کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہےہیں۔
منگل کو کانگریسی ریلی سے خطاب کے دوران کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے سوال کیا کہ مودی کی مخالفت کرنے پر مجھ پر مختلف ریاستوں میں ۲۴ مقدمات درج کئے گئے ہیں لیکن اسدالدین اویسی پر ایک بھی کیس درج نہیں کیا گیا ہے، اس کی آخر کیا وجہ ہے ؟ نامپلی میں ایک انتخابی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے الزام لگایاکہ آر ایس ایس‘ مودی اور ”تعصب پرستوں“ نے پورے ملک میں نفرت پھیلارکھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان کی منشاء ملک میں نفرت کوختم کرنا ہے اور اس کام کے لئے مرکز میں وزیراعظم نریندرمودی کو شکست دینا ضروری ہے۔
گاندھی نے کہاکہ ”یہ لڑائی نظریاتی ہے اور میں کوئی سمجھوتا اس پر نہیں کروں گا“ اے ائی ایم ائی ایم صدر اسدالدین اویسی پر وار کرتے ہوئے انہوں نے پوچھا کہ اویسی کے خلاف ایک بھی مقدمات کیوں نہیں ہیں۔ دعوی کرتے ہوئے کہ ای ڈی اور سی بی ائی جیسی ایجنسیاں ہر وقت ان کے پیچھے رہتی ہیں‘ راہول نے پوچھا کہ اویسی کے پیچھے ایسی کوئی ایجنسی کیوں نہیں ہے۔
راہول گاندھی نے دعوی کیا کہ اویسی کے ساتھ ایسا اس لئے ہورہا ہے کیونکہ اے ائی ایم ائی ایم صد مودی کی مدد کررہے ہیں۔راہول نے کہا کہ اے ائی ایم ائی ایم مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی مدد کرتی ہے اور کانگریس کونقصان پہنچانے کے لئے اپنے امیدواروں کومیدا ن میں اتار کر سیکولر ووٹوں کو تقسیم کرنے کا کام کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں بی جے پی اُمیداور جیت جاتا ہے۔