نئی دہلی، 16؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) مودی حکومت میں جاری کمر توڑ مہنگائی کے درمیان عام آدمی کو مزید ایک جھٹکا لگا ہے۔ دودھ کا کاروبار کرنے والی کمپنی ’امول‘ اور ’مدر ڈیری‘ نے ایک بار پھر دودھ کی قیمت میں دو روپے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا ہے۔ نئی شرحیں بدھ یعنی 17 اگست 2022 سے نافذ ہوں گی۔ کانگریس نے اس تعلق سے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’دہی-لسی پر جی ایس ٹی کی مار کے بعد اب دودھ کو بھی نہیں بخشا۔‘‘ ظاہر ہے اس اضافہ سے عام آدمی کی جیب پر بوجھ مزید بڑھے گا۔
منگل کو گجرات کو-آپریٹو ملک مارکیٹنگ فیڈریشن نے امول دودھ کی قیمتوں میں دو روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا۔ اس کے فوراً بعد ہی مدر ڈیری نے بھی دودھ کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔ امول دودھ کی قیمتوں میں کیا گیا اضافہ گجرات کے علاوہ دہلی-این سی آر، مغربی بنگال، ممبئی اور ان سبھی ریاستوں میں نافذ ہوگا جہاں امول کی مصنوعات فروخت ہوتی ہیں۔ امول دودھ کی نئی شرحیں بھی 17 اگست 2022 سے نافذ ہوں گی۔
گجرات کو-آپریٹو ملک مارکیٹنگ فیڈریشن نے دودھ کی قیمت بڑھانے کے اعلان کے بعد کہا کہ دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کا فیصلہ دودھ پروڈکشن اور مینجمنٹ لاگت کی بڑھی ہوئی لاگت کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ گجرات کو آپریٹو نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ دودھ کی قیمتوں میں دو روپے فی لیٹر کے اضافہ سے مصنوعات کی ایم آر پی میں 4 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو خوردنی اشیاء کی مہنگائی کی اوسط شرح سے کم ہے۔