امپھال، 2/ستمبر(ایس او نیوز/ایجنسی)منی پور میں ایک بار پھر آگ لگ گئی ہے- چورا چند پور اور بشنو پور اضلاع کی سرحد پر واقع بفر زون میں 29 اگست کو شروع ہونے والا تشدد اب بھی جاری ہے- گزشتہ تین دنوں میں 8 افراد ہلاک ہو چکے ہیں - تشدد میں 18 افراد شدید زخمی ہیں -
قبائلی تنظیم آئی ٹی ایل ایف نے چورا چند پور میں بند کا اعلان کیا ہے- فوج کا کہنا ہے کہ خواتین کی تنظیمیں انہیں تشدد سے متاثرہ علاقوں میں مزید جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہیں -
دوسری طرف، جمعہ یعنی یکم ستمبر کو سپریم کورٹ نے مرکزی اور منی پور حکومتوں کو ہدایت دی کہ وہ تشدد سے متاثرہ لوگوں کو خوراک، ادویات اور بنیادی سامان فراہم کریں -
چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس جے بی پاردی والا کی بنچ نے حکومت سے کہا کہ وہ مختلف تنظیموں کی ناکہ بندی سے خود ہی نمٹے- ایک آپشن کے طور پر متاثرہ علاقوں میں راشن کو ہوا (ہوائی جہاز)سے اتارنے کا بھی مشورہ دیا-
کیس کی اگلی سماعت6ستمبر کو ہوگی-کوکی گلوکار ماضی میں پھوٹنے والے تشدد میں ہلاک ہو گئے تھے-جمعرات کو میتی اور کوکی حملہ آوروں کے درمیان کھویرانتک، چنگپی، کھوشوبانگ اور نارائن سینا میں پرتشدد جھڑپیں ہوئیں - اس دوران مارٹر حملوں اور فائرنگ میں 5 افراد ہلاک ہوئے-
مرنے والوں میں منی پور کے مشہور کوکی گلوکار منگابوئی لنگڈم بھی شامل ہیں، جنہوں نے مئی میں تشدد پھوٹنے کے بعد ”اے گام ہلا ہم“(کیا یہ ہماری زمین نہیں ہے)گانا لکھا اور گایا تھا-
تشدد سے متاثرہ چورا چند پور اور بشنو پور میں فوج کو تعینات کیا گیا ہے- اس وقت یہاں کے بفر زون میں سی آر پی ایف اور آسام رائفلز کو تعینات کیا گیا تھا-