منگلورو 21 / اگست (ایس او نیوز) منگلورو کے فرقہ وارانہ حساس علاقے کے طور پر پہچانے جانے والے علاقہ میں واقع سورتکل جنکشن کو سنگھ پریوار کی طرف سے 'ساورکر جنکشن ' کے نام سے منسوب کرنے کی خفیہ تیاریاں زوروں پر ہیں ۔
یاد رہے کہ منگلورو سٹی کارپوریشن میں سورتکل جنکشن کا نام ساورکر جنکشن سے بدلنے کی تجویز بی جے پی ایم ایل اے ڈاکٹر بھرت کمار شیٹی نے پیش کی تھی ۔ ایم سی سی میں کانگریس اور ایس ڈی پی آئی نے اس تجویز کی مخالفت کے باوجود تجویز منظور کر لی گئی تھی ۔ اب یہ تجویز اسٹائنڈنگ کمیٹی کے پاس ہے اور سمجھا جا رہا ہے کہ وہاں پر منظور کرلینے کے بعد چند ہی دنوں میں اسے توثیق کے لئے حکومت کے پاس بھیجا جائے گا ۔ اور وہاں سے بھی اسے منظوری ملنا طے مانا جا رہا ہے ۔
سیاسی و سماجی حالات پر نظر رکھنے والے اس اقدام کے منفی اثرات کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں ۔ پچھلے دنوں فاضل نامی نوجوان کے قتل کے بعد اس علاقہ کی کشیدگی اور حساسیت میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے اور ایسے وقت میں سنگھ پریوار کا یہ قدم علاقے میں بد امنی پھیلنے کا سبب بھی بن سکتا ہے ۔
رکن اسمبلی ڈاکٹر بھرت شیٹی کا کہنا ہے :" سورتکل جنکشن کو ساورکر جنکشن کا نام دینے کی تجویز مقامی کارپوریٹرس نے رکھی تھی ۔ بجرنگ دل اور ایچ جے وی جیسی ہندو تنظیموں نے بھی مجھ سے درخواست کی تھی ، اس لئے میں نے اپنے لیٹر ہیڈ پر یہ تجویز ایم سی سی کو بھیجی ۔ کاونسل میں کانگریس اور ایس ڈی پی آئی نے سختی کے ساتھ اس کی مخالفت کی تھی ۔ ہم نے کاونسل میں پاس کرکے اسٹائنڈنگ کمیٹی کو بھیج دیا ۔ وہاں پر پاس کرکے اب حکومت کے پاس بھیجی جائے گی اور وہاں سے توثیق ہونے کے بعد دوبارہ کاونسل میں اسے منظور کر لیا جائے گا ۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کانگریس اور ایس ڈی پی آئی کیوں اس تجویز کی مخالفت کر رہے ہیں ۔ یہ اس جنکشن کو ایک جنگ آزادی کے سپاہی سے منسوب کرنے کا معاملہ ہے ۔ کوئی بھی اس پر عدالت سے اسٹے لا نہیں سکتا ۔ ہم ہر قیمت پر سورتکل جنکشن کو ساورکر کے نام سے منسوب کرکے رہیں گے ، چاہے جو ہو جائے ۔"