بنگلورو، 10؍اکتوبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) ملک کے اولین مجاہد آزادی حضرت ٹیپو سلطان سے بی جے پی حکومت کی دشمنی جگ ظاہر ہوچکی ہے اور جمعہ کو بنگلورو اور میسور کو جوڑنے والی ٹرین کا نام ٹیپو ایکسپریس سے بدل کر وڈیار ایکسپریس کرنے کے بعد اسدالدین اویسی نے اس فعل پر بی جے پی حکومت کو خوب آڑے ہاتھ لیا ہے ۔
نام کی تبدیلی کا اعلان میسور سے بی جے پی کے رکن پارلیمان پرتاپ سمہا نے کیا ۔ ٹرین کا نام تبدیل کرنے پر کانگریس سمیت اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایاہے۔ اویسی نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ‘بی جے پی حکومت نے ٹیپو ایکسپریس کا نام بدل کر وڈیار ایکسپریس کر دیا ہے۔ بی جے پی ٹیپو سلطان سے حسد کرتی ہے کیونکہ ٹیپو نے انگریزوں کے خلاف تین جنگیں لڑی تھیں۔ کسی اور ٹرین کا نام وڈیار کے نام پر رکھا جا سکتا تھا۔ انہوں نے لکھا کہ بی جے پی ٹیپو کی وراثت کو کبھی نہیں مٹا سکے گی۔ جب وہ زندہ تھے تو انگریزوں کو ڈراتے تھے اور آج انگریزوں کے غلاموں کو ڈرا رہے ہیں۔ انہوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ بی جے پی نے ٹیپو ایکسپریس ٹرین کا نام ’وڈیار‘ ایکسپریس کردیا۔کسی اور ٹرین کا نام وڈیار کیا جاسکتا تھا، لیکن انہوں نے انہیں جان بوجھ کر ٹیپو سلطان کی وراثت کو ٹارگیٹ کیا۔ اسدالدین اویسی نے کہا کہ میں چیلنج دیتا ہوں، بی جے پی کتنی بھی کوشش کرلے، لیکن کبھی بھی ٹیپو سلطان کی وراثت کو مٹا نہیں پائے گی۔ ٹیپو سلطان نے بی جے پی کو ناراض کردیا کیونکہ انہوں نے ان کے برطانوی آقاوں کے خلاف 3 جنگ چھیڑی تھی۔
ٹیپو ایکسپریس کا نام تبدیل کرنے پر ریاست میں بہت سے لوگوں نے حکومت کی مذمت کی۔ کرناٹک ریلوے کے لوکیش ٹی پی نے کہا کہ نام کی تبدیلی بے ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹرین کا نام تبدیل کرنے سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ دیگر ایکسپریس ٹرینوں کے مقابلے میں ٹیپو ایکسپریس اپنے مختصر سفری وقت کی وجہ سے عوام میں مقبول رہی ہے۔ ایم پی پرتاپ سمہا نے فروری میں وزیر ریلوے اشونی ویشنو سے ملاقات کر کے درخواست کی تھی، اس کے ایک ماہ بعد ٹرین کا نام تبدیل کر دیا گیا۔
دوسری طرف کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی نے بھی مرکز کے اس قدم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ کرناٹک کی ’امیر وراثت اور شاندار ماضی‘ کی ایک مناسب پہچان ہے۔ انہوں نے لکھا کہ میسور بنگلور ایکسپریس اور تلگپّا میسور ایکسپریس کا نام بدل کر بالترتیب ’وڈیار‘ایکسپریس اور کوویمپو ایکسپریس کرنے کےلئے مرکزی وزیر ریل اشونی ویشنو کا شکریہ! یہ ہماری خوشحال وراثت اور شاندار ماضی کی مناسب پہچان ہے۔
دریں اثنا کرناٹک کانگریس کمیونی کیشن ونگ کے شریک چیئرمین منصور خان نے اس فیصلے کو فرقہ وارانہ سیاست قرار دیا۔ انہوں نےٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ٹیپو ایکسپریس کا نام بدل کر ’وڈیار‘ ایکسپریس کیوں رکھا گیا؟ یہ ٹرین اس روٹ پر 42 سال سے چل رہی ہے اورکسی کو اس کے نام پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ اس نام کا کیا استعمال ہے؟ کیا یہ کسی بھی طرح سے عوام کی مدد کرتا ہے؟ یہ فرقہ وارانہ سیاست ہے۔جبکہ کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے ریلوے کے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ملک کی سیاست میں زہر گھولنے کا کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کا کام زہر گھولنا ہے، وہ کسی اور ٹرین کا نام وڈیار رکھ سکتے تھے۔