ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ملک کی خیر خواہی کے لئے امت مسلمہ کا عدل و انصاف کی علم بردار بن کر ابھرنا ضروری ہے : گلبرگہ میں امیر جماعت اسلامی ہندسعادت اللہ حسینی کا خطاب

ملک کی خیر خواہی کے لئے امت مسلمہ کا عدل و انصاف کی علم بردار بن کر ابھرنا ضروری ہے : گلبرگہ میں امیر جماعت اسلامی ہندسعادت اللہ حسینی کا خطاب

Sat, 14 Jan 2023 20:35:31    S.O. News Service

 گلبرگہ،14؍جنوری (ایس او نیوز؍راست) جماعت اسلامی ہند گلبرگہ کے زیر اہتمام 11جنوری کو کو نیشنل گراؤنڈ ہفت گنبد گلبرگہ میں ایک عظیم الشان جلسہ عام بعنوان موجودہ حالات، ملک کی خیر خواہی اور ملت کی رہنمائی منعقد ہوا۔

جناب زبیر نواز بھائی ک صحافتی بیان کے بموجب  ڈاکٹر بیلگامی محمد سعد ریاستی صدرجماعت اسلامی ہندکرناٹک اور محترم ایس امین الحسن  کے افتتاحی خطاب کے بعد سید سعادت اللہ حسینی قومی امیر جماعت اسلامی ہندکا خصوصی خطاب ہوا۔

انھوں نے جلسہ کے عنوان ملک کی  خیر خواہی کے لئے امت مسلمہ کا عدل و انصاف کا علم بردار بن کر ابھرنا پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ عنوان ایک عظیم حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ہمارے عقیدہ اور ایمان کا جز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ہم صرف ملت اور اپنی بھلائی کے لئیہی نہیں بلکہ سارے ملک کے خیرخواہ ہیں ہمیں تمام مذاہب کے لوگوں کو یقین دلانا ہوگا کہ ہم ان کے بھی خیر خواہ ہیں۔ یہاں ہرایک قوم،ہرایک ذات اپنے مفادکے لئے جی رہی ہے۔

لیکن امت مسلمہ کو قرآن بتاتا ہے کہ مسلمان خیر امت ہیں۔ ہم سارے انسانوں کی بھلائی کے لئے بنائے گئے ہیں۔ ملک کی خیر خواہی کا سب سے بڑا تقاضہ یہ ہے کہ یہ امت صحیح معنوں میں عدل و انصاف کی علم بردار بنبن کرابھرے۔ اس ملک میں ہماری پہچان یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ہم بہت سی ذاتوں میں سے ایک ذات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں امت مسلمہ پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ امت سارے انسانوں کے لئے عدل و انصاف فراہم کرے۔ اس ملک میں ہماری شناخت بھی یہی ہونی چاہئے کہ ہم عدل و انصاف کے علم بردار ہیں۔ ایک پیغام دینے والی امت ہیں۔ ایک نظریہ دینے والی امت ہیں۔، روشنی دینے والی امت ہیں۔ نیا راستہ بتانے والی امت ہیں، مسائیل کو حل کرنے والی امت ہیں۔ یہ ہماری پہچان اس ملک میں ہونی چاہئے۔ اس ملک میں ہم اپنی سلامتی کے لئے مسئلہ بنے ہوئے ہیں، اپنی نسلوں کے تحفظ کے لئے پریشان ہیں۔جب کہ اصل میں ہم نے اس ملک میں اپنی شناخت کھودی ہے۔ جس کی وجہہ سے ہم تحفظ کے بحران میں مبتلا ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں خیر امت بنا کر بھیجا ہے لیکن ہم خود ذاتوں ایک ذات اور فرقوں میں سے ایک فرقہ بن کر رہ گئے ہیں۔ ہماری سوچ کا معیار چھوٹا ہوجانا یہ سب سے بڑابحران بنا ہوا ہے۔ ہمیں اپنی سوچ کو قرآن کے مطابق بلند کرنا ہوگا۔ قرآن جو مقصد بتاتا ہے، جو نظریہ دیتا ہے جو ہماری فہم کو بلند عطا کرتا ہے ہمیں وہ بلندی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انشاء اللہ سارے مسائل خود بہ خود حل ہوجائیں گے۔ ہمیں اپنے مقصد زندگی کو پہچان کر اس کی حیثیت کو پہچاننا ہوگا۔ امت مسلمہ کو مشکل حالات میں بھی اپنے اصولوں پر اپنے دین پر اپنے ایمان پر، اپنے مقصد، نصب العین پر اور قرآن ہمیں جو پیغام دیتا ہے ہمیں پوری استقامت کے ساتھ چٹان کی طرح جم جانا چاہئے۔ باطل طاقتوں کے  مقابلہ میں بھی استقامت آسان ہے۔ لیکن مشکل بات اپنے نفس اور اپنی خواہشات پر قابو پانا ہے۔ پریشان ہوکر اور مایوس ہوکر ہماپنے راستہ سے نہ بھٹکیں، جذباتیت کا شکار ہوکر اپنے مقصد و مشن سے نہ ہٹیں۔ اسلام کے اصولوں پر استقامت کے ساتھ ڈٹے رہیں۔

جناب سید سعادت اللہ حسینی نے امت کے نوجوانوں سے دوسری گزارش یہ کی کہ وہ حالات کا صحیح شعور پیدا کریں۔ اللہ نے ہمیشہ مشکلات اور پریشانیوں کو مواقع اور امکانات کے ساتھ برابر رکھا ہے۔۔ ہر مشکل کے ساتھ دو آسانیاں ہیں۔ حالات ہمارے لئے کیا مواقع پیدا کرتے ہیں ان پر نظر ڈالیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے آگے مشکل حالات اس لئے بھی پیداکرتا ہے کہ اللہ کی بڑی اسکیموں کا حصہ ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی ان اسکیمات کو سمجھیں۔ مشکل حالات میں ہمیں سیدنا یوسف علیہ السلام کے اس واقعہ کوسامنے رکھنا ہوگا جب ان کے بھائیوں نے انھیں اندھیرے کنویں میں ڈھکیل دیا تھا۔ اس سے بڑھ کر کون سے مشکل حالات ہوسکتے ہیں۔ جہاں سے بچ کر نکلنے کی کوئی امید باقی نہیں تھی اللہ تعالی ٰ نے اسی اندھیرے کنویں سے یوسف علیہ السلام کو مصر کے تاج و تخت تک پہنچادیا۔ ہمیں سیدنا یوسف علیہ السلام کے اس واقعہ سے سبق لینا ہوگا۔ آج امت مسلمہ کو جن حالات اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، یہ حالات اور مشکلات امت مسلمہ کو بدلنے کے لئے پیش آرہی ہیں۔ ملت کے نوجوان اپنے اصل مقصد سے اپنے مشن اور نصب العین سے وابستہ ہوجائیں۔

اللہ نے ہمیں آزمائیشوں کی بھٹی میں اسی لئے ڈھکیل رکھا ہے کہ تاکہ ہم وہاں سے کندن بن کر نکلیں۔ اسلام کی تاریخ بھی ہمیں یہی بتاتی ہے۔کہ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔ اسلامی تاریخ پر ہم نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس امت نے ہمیشہ مشکلات اور آزمائیشوں سے طاقت حاصل  کی ہے۔انشا اللہ آج ہمیں جس طوفان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ بھی ہمارے لئے نئے دروازے کھولے گا۔ شرط یہ ہے کہ امت حوصلے اور استقامت کے ساتھ اسلام کے اصولوں پر جم جائے۔ جناب سید سعادت اللہ حسینی نے امت کے نوجوانوں سے تیسری گزارش کی کہ امت ہم وطن بھائیوں کے دلوں  اور دماغوں کو جیتنے میں لگ جائے۔ اسلام کا صحیح تعارف کروایا جائے۔ حالات خود بہ خود بدلنا شروع ہوجائیں گے ہم جہاں بھی ہوں جس حیثیت میں بھی ہوں امت مسلمہ ہونے کی حیثیت سے اپنے مقام کو بھی سمجھیں۔ انشاء اللہ ان گزارشات  پر عمل کرنا شروع کردیں تو اسی سے حالات بدلیں گے اگر ہم اپنے آپ کو بدلیں گے تو انشاء اللہ ملت اسلامیہ پر جو مشکلات کے بدل منڈلا رہے ہیں، یہ حالات تابناک اور روشن مستقبل کا کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔

جماعت اسلامی کے اس یادگار اجتماع میں مولانا نجم الدین حسین ناظم علاقہ گلبرگہ، بیدر و رائیچور، جناب محمد ضیا  ء اللہ ناظم جماعت اسلامی ضلع گلبرگہ، جناب سید تنویر ہاشمی امیر مقامی جماعت اسلامی ہند گلبرگہ، محمد مظہر الدین ناظم شعبہ اسلامی معاشرہ اور جناب ذاکر حسین صدر مساجد کونسل کے علاوہ جماعتی ارکان، معززین شہر اور خواتین و حضرات پر مشتمل تین ہزار سے زیادہ افراد نے شرکت کی۔


Share: