نئی دہلی،23/ستمبر(ایس او نیوز/ایجنسی)پہلے آر بی آئی کی رپورٹ آئی کہ لوگوں کی بچت50سال میں سب سے کم سطح پر پہنچ گئی ہے اور لوگوں پر قرض کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے- اب ملک میں بے روزگاری کے حوالے سے ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جو پریشان کن ہے- ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں 25سال سے کم عمر کے42.3فیصد نوجوان گریجویٹ بے روزگار ہیں - ملک میں بے روزگاری کی شرح2019-20میں 8.8فیصد تھی جو2020-21میں کم ہو کر 7.5فیصد اور مالی سال2022-23میں 6.6فیصد رہ گئی ہے- لیکن پڑھے لکھے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے-
یہ معلومات عظیم پریم جی یونیورسٹی کے اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا2023کے حوالے سے سامنے آئی ہیں - رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ 22.8فیصد بے روزگاری کی شرح25سے29سال کے نوجوانوں میں ہے- اعلیٰ مادھیامک سطح کی تعلیم حاصل کرنے والے25سال سے کم عمر کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 21.4 فیصد ہے جو کہ سب سے زیادہ ہے-35سال اور اس سے زیادہ عمر کے فارغ التحصیل افراد میں بے روزگاری کی شرح پانچ فیصد سے کم ہے- جبکہ40سال یا اس سے زیادہ عمر کے گریجویٹ افراد میں بے روزگاری کی شرح صرف1.6فیصد ہے-
رپورٹ کے مطابق25سال سے کم عمر کے ناخواندہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح13.5فیصد پائی گئی ہے- جبکہ40 سال اور اس سے زیادہ عمر کے ناخواندہ گروپ میں بے روزگاری کی شرح2.4فیصد ہے- عظیم پریم جی یونیورسٹی کی یہ رپورٹ سرکاری اعداد و شمار پر مبنی ہے- یہ رپورٹ این ایس او کے ایمپلائمنٹ- بے روزگاری سروے، لیبر ورک فورس سروے، نیشنل فیملی ہیلتھ سروے، انڈسٹریز کا سالانہ سروے، آبادی کی مردم شماری جیسے سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے- انڈیا ورکنگ سروے کے نام سے ایک خصوصی سروے کرناٹک اور راجستھان کے دیہی علاقوں میں بھی کرایا گیا ہے-
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح میں کمی کے باوجود آمدنی کی سطح مستحکم رہی- رپورٹ کے مطابق خواتین کی آمدنی کورونا کی وبا کے آنے سے پہلے ہی کم ہونا شروع ہو گئی تھی- 2004کے بعد سے خواتین کی ملازمت کی شرح یا تو گر رہی تھی یا مستحکم رہ گئی تھی- 2019سے خواتین کی ملازمتوں میں اضافہ ہوا ہے- وبائی امراض کے دوران خواتین کی ایک بڑی تعداد نے خود روزگار کو اپنایا ہے- کورونا وبا سے پہلے50فیصد خواتین خود ملازمت کرتی تھیں اور وبا کے بعد یہ تعداد60فیصد تک پہنچ گئی ہے-