ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / معہد الطیب کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام میں ایڈوکیٹ محمود پراچہ سمیت دیگر شرکاء کا اظہار خیال 

معہد الطیب کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام میں ایڈوکیٹ محمود پراچہ سمیت دیگر شرکاء کا اظہار خیال 

Tue, 07 Aug 2018 01:58:00    S.O. News Service

نئی دہلی:6/ اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)معروف دینی درس گاہ معہد الطیب نبی کریم کی جانب سے غالب اکیڈمی نظام الدین میں ’’ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کا کردار‘‘ کے عنوان پر ایک اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں متعدد علماء و دانشوران نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ صدارت کا فریضہ سپریم کورٹ کے سیئنر وکیل محمود پراچہ نے انجام دیا انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ آزادی کے وقت ہندوستان کی تقسیم نہیں بلکہ بر صغیر کے مسلمانوں کی دو حصوں میں تقسیم ہوئی تھی اور محمد علی جناح نے آر ایس ایس کے اشارے پر کام کیاتھا ۔اگر آج ہندوستان متحد ہوتادنیا بھر میں ہم سب سے بڑے طاقتور ہوتے ۔پاکستان اور بنگلہ دیش بن جانے کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی 15 فیصد ہے ۔17 فیصد دلت ہیں اور 9 فیصد سے زائد آدیواسی ہیں یہ سب متحدہوکر فرقہ پرست طاقتوں کو چیلنج کرسکتے ہیں۔ایک سیکولر حکومت کا قیام آسانی کے ساتھ کرسکتے ہیں ۔انہوں نے مزید کہاکہ ہندوستانی قیادت اور ہمارے علماء بزدلی سے کام لے رہیں ‘جس نہج پر وہ قیادت کررہے ہیں اگر وہ سلسلہ چند سالوں تک اور باقی رہا تو ہندوستان دوسرا اندلس بن جائے گا ۔انہوں نے تلخ انداز میں کہاکہ ہمارے سامنے اب دور استے ہیں یاتو میں علما ء کا احترام کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرلوں اور قوم کو تباہ وبرباد ہوتے دیکھوں یا پھر قوم کی فلاح وبہبود چاہتے ہوئے خاموشی توڑ کر حقیقت بیان کروں ۔انہوں نے کہاکہ وہ چاہتے ہیں کہ دہشت گردی کے الزام میں گرفتار مسلمانوں کو رہاکرایاجائے جب کہ ہماری اولین کوشش دہشت گردی کے نام پر گرفتار کرنے والے افسران کے خلاف قانونی کاروائی ہونی چاہیئے تاکہ آئندہ وہ پھر کسی مسلمان کی زندگی برباد کرنے کے بارے میں نہ سوچ سکے ۔انہوں نے کہاکہ بھیم راؤ امبیڈکا بنایا ہوا قانون بہت اہم ہے اور اس پر عمل کرکے ہم کامیاب ہوسکتے ہیں ۔اس وقت یہ ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ مسلم بچے وکیل بنیں اور قانون کا صحیح استعمال کرکے اپنی قوم کو انصاف دلائیں ۔انہوں نے دلتوں سے دوستی کرنے اور ان سے بہتر تعلقات قائم کرنے پر زوردیتے ہوئے کہاکہ ہر ایک مسلم فیملی کو چاہیئے کو وہ ایک دلت سے دوستی کرے ۔سیئنر صحافی اے یو آصف ایڈیٹر ہفت روزہ چوتھی دنیا نے اپنے خطاب میں ہندوستان کی آزاد ی میں اردو صحافیوں کی خدمات کا تذکرہ کیا ۔انہوں نے تفصیل کے ساتھ بتایاکہ انگریزوں کے ظلم وستم اورتشدد کے باوجود اس دور کے اردو صحافیوں نے حق کا پرچم بلند رکھا۔انگریزوں کے مظالم اور برٹش حکومت کے خلاف محاذ بنانے اور عوام میں آزادی کی روح بیداکرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔مسلم پولٹیکل کونسل آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر تسلیم رحمانی نے اپنے خطاب میں کہاکہ سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ اب ہمیں اپنی جنگ آزادی کی تاریخ بھی بتانے کی ضرروت پڑرہی ہے اور ہم اس طرح کا پروگرام کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ جنگ آزاد ی میں مسلمانوں کا کیا کردار رہاہے ۔ارباب اقتدار سے مطالبہ کررہے ہیں کہ آزای کی تاریخ اور مجاہدین کی فہرست میں ہمارا بھی نام شامل کرلو ۔ڈاکٹر رحمانی نے کہاکہ اس وقت پوری دنیا میں دو نظریہ کی بنیاد پر سیاست اورووٹنگ ہورہی ہے ۔کہیں اسلام کی مخالفت میں ووٹنگ ہورہی ہے تو کہیں اسلام کی حمایت کی بنیاد پر ۔حالات بہت نازک ہوچکے ہیں لیکن اس سے گھبرانے اور مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ہم دوسری جنگ آزادی کیلئے تیار رہیں ۔اب دوسری جنگ آزادی کا بگل بجے گا اور اس مرتبہ بھی ہم ہی بجائیں گے۔ڈاکٹر مفتی عبید اللہ قاسمی پروفیسر دہلی یونیورسیٹی نے اپنے خطاب میں کہاکہ موجودہ ہندوستان میں نصاب تبدیل کیا جارہاہے ۔مسلم مجاہدین کا تذکرہ حذف کیاجارہاہے جس کی وجہ سے اسکول اور کالجز میں تعلیم حاصل کرنے والے 98 فیصد مسلمان جنگ آزادی میں مسلمانوں کی خدمات سے ناواقف ہوتے ہیں ۔اس کیلئے ضروری ہے کہ ایک طرف جہاں حکومت پر دباؤ بناکر نصاب کی کتابوں میں مسلم مجاہدین کی خدمات کا تذکرہ شامل کیاجائے وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی سطح پر لٹریچر ‘کتاب شائع کریں اور دوسرے طریقے اپنائیں ۔مولانا ساجد منصور مہتمم جامعۃ الشیخ نظام الدین اولیاء نے اپنے خطاب میں جنگ آزادی کی تاریخ میں علماء کے کردار کا تذکرہ کرتے ہوئے اس جانب توجہ دلائی کہ اسے عام مسلمانوں تک پہونچانے کیلئے کوئی لائحہ عمل طے کیا جائے ۔علاوہ ازیں اس موضوع پر مولانا مرزاذکی بیگ سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل صوبہ دہلی ۔مفتی محمد اللہ قیصر ۔زبیر سعیدی عمری اور مولانا شکیل الرحمن ندوی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔واضح رہے کہ یہ پروگرام دوسیشن پر مشتمل تھا پہلے سیشن میں معہد الطیب کے طلبہ وطالبات نے جنگ آزادی اور دیگر عنوان پر تقریر ۔نعت اور مکالمہ کی شکل میں انتہائی خوبصورت پروگرام پیش کیا جسے تمام مہمانوں اور سامعین نے سراہااور مدرسہ معہد الطیب کی نمایاں حصولیابی قراردیا ۔محترمہ شہناز انجم نے طلبہ وطالبات کے پروگرام کے نظامت کی جبکہ ملت ٹائمز کے ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی نے پروگرام کے دوسرے سیشن کی نظامت کا فریضہ انجام دیا۔معہد الطیب کے ناظم اور کنوینر مولانا عامر ظفر قاسمی نے تمام مہمانان کرام اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔پروگرام میں معروف ایڈوکیٹ شاہدعلی وکیل دہلی ہائی کورٹ ۔ مولانا حفظ الرحمن قاسمی انچارج مرکز المعارف دہلی ۔مولانا سعد قاسمی ۔نوشاد عثمانی چیف ایڈیٹر صداٹوڈے نیوز پورٹل ۔محترمہ ٹی این بھارتی۔مولانا سعید قاسمی ۔محمد قیصر صدیقی ۔محمد افسر علی سمیت بڑی تعداد میں اہل علم اور طالبہ وطالبات کے گارجین حضرات موجودتھے۔


Share: