ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مظفر نگر طالب علم کے ساتھ پٹائی کا معاملہ جو کچھ ہوا، اُس سے ریاستی حکومت کا ضمیر دہل جانا چاہیے : عدالت عظمیٰ

مظفر نگر طالب علم کے ساتھ پٹائی کا معاملہ جو کچھ ہوا، اُس سے ریاستی حکومت کا ضمیر دہل جانا چاہیے : عدالت عظمیٰ

Tue, 26 Sep 2023 11:41:39    S.O. News Service

نئی دہلی، 26/ستمبر(ایس او نیوز/ایجنسی)اتر پردیش کے مظفر نگر میں ایک خاتون اسکول ٹیچر کے ذریعہ طلبا سے ایک مسلم طالب علم کو تھپڑ مارنے کا حکم دینے والی وائرل ویڈیو کو سپریم کورٹ نے ریاست کی روح کو جھنجھوڑ دینے والا بتاتے ہوئے کہا کہ اس سے سرکارکا دل دہل جاناچاہئے۔ عدالت نے یوپی پولیس کی کھنچائی کرتے ہوئے معاملے میں درج ایف آئی آر کی جانچ ایک سینئر آئی پی ایس افسر سے کرانے کا حکم دیا۔

جسٹس ابھے ایس اوکا اور جسٹس پنکج متھل کی بنچ نے جرم ہونے کے باوجود متاثرہ کے والد کی شکایت پر شروع میں این سی آر رپورٹ درج کرنے کیلئے اتر پردیش پولیس کی سرزنش کی۔ واقعہ کو سنگین بتاتے ہوئے بنچ نے حکم دیا کہ دو ہفتہ کی تاخیر کے بعد درج کی گئی ایف آئی آر کی جانچ ایک سینئر آئی پی ایس افسر کریں گے۔

عدالت عظمیٰ ایف آئی آر میں فرقہ واریت کا الزام نہیں ہونے پر بھی حیرانی ظاہر کی۔ اس کے علاوہ بنچ نے یہ بھی پایا کہ پہلی نظر میں ریاستی حکومت تعلیم کا حق(آر ٹی ای)ایکٹ کے حکم پر عمل کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے، جہاں جسمانی سزا اور مذہب کی بنیاد پر کسی بھی طرح کی تفریق سخت ممنوع ہے۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے تبصرہ میں کہا کہ اگر کسی طالب علم کو صرف اس بنیاد پر سزا دینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ایک خاص طبقہ سے ہے، تو یہ کوئی معیاری تعلیم نہیں ہو سکتی۔ اس نے ریاستی حکومت سے آر ٹی ای ایکٹ کے عمل در آمد پر ایک اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنے کو کہا اور پیشہ ور مشیروں کے ذریعہ متاثرہ اور دیگر طلبا کو مشاورت دینے کی ہدایت دی۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے مفاد عامہ عرضی دہندہ سماجی کارکن اور مہاتما گاندھی کے پڑپوتے تشار گاندھی کے حلقہ اختیار پر ریاستی حکومت کے ذریعہ اٹھائے گئے اعتراضات کو بھی خارج کر دیا۔ اس سے پہلے 6 ستمبر کو سپریم کورٹ نے اتر پردیش پولیس سے جانچ کی حالت اور متاثرہ اور اس کے کنبہ کی سکیورٹی کیلئے کیے گئے انتظامات کے بارے میں رپورٹ داخل کرنے کو کہا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں مظفر نگر سے ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک پرائیویٹ اسکول کی ٹیچر کے حکم پر ساتھی طالب علموں کو 7 سالہ بچے کو تھپڑ مارتے دیکھا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے داخل عرضی میں واقعہ کی مدت بند اور آزادانہ جانچ کا حکم دینے اور اسکولوں میں مذہبی اقلیتی طلبا کے خلاف تشدد کو روکنے کیلئے گائیڈلائن قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔


Share: