نئی دہلی، 18؍جون (ایس او نیوز؍ایجنسی) فوج کی نئی بھرتی اسکیم `اگنی پتھ کے خلاف طلبہ کےمظاہروں کا سلسلہ تیسرے دن بھی جاری ہے۔ احتجاج کی یہ آگ مزید ریاستوں تک پھیل گئی ہے۔ کل تک جہاں بہار اور یوپی میں مظاہرے ہو رہے تھے اب بہار اور یوپی کے ساتھ ساتھ آسام ، ہریانہ ، راجستھان ، ہماچل اور مغربی بنگال میں بھی مظاہرے ہورہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر ریاستوں میں یہ احتجاج پرتشدد ہوگیا ہے جس کی وجہ سے حالات انتہائی ابتر ہیں۔ بہار تشدد سے سب سے زیادہ متاثر ہے اور یوپی بھی اسی کی راہ پر چل پڑا ہے۔ ہریانہ میں بھی حالات خراب ہو گئے ہیں جس کے بعد پولیس نے یہاں متعدد شہروں میں امتناعی احکامات جاری کردئیے ہیں۔ ان پرتشدد مظاہروں سے سب سے زیادہ متاثر بہار میںمظاہرین نے مزید ۴؍ ٹرینیں نذر آتش کردیں جبکہ ان کے احتجاج کی وجہ سے کئی ٹرینوں کو رد کرنا پڑا۔ اطلاعات کے مطابق پورے ملک میں اب تک ۲۰۰؍ سے زائد ٹرینیں رد ہوئی ہیں جبکہ کل ملاکر ۳۴۰؍ ٹرینیں متاثر ہوئی ہیں۔
یوپی کے بلیا میں مظاہرین ریلوے اسٹیشن کے اندر داخل ہو گئے اور توڑ پھوڑ کی۔پہلے واقعہ میں بہار کے سمستی پور میں صبح کے وقت شرپسندوں نے جموں توی۔گوہاٹی ایکسپریس ٹرین کو نذر آتش کر دیا۔ حاجی پور برونی ریلوے سیکشن کے محی الدین نگر اسٹیشن پر پیش آنے والے اس واقعہ میں ٹرین کی دو بوگیاں جل کر خاک ہو گئیں۔ اس کے علاوہ مظاہرین نے دربھنگہ سے نئی دہلی جانے والی بہار سمپرک کرانتی ایکسپریس کو بھی آگ لگا دی۔ ٹرین کی چار بوگیاں جل گئیں۔ سمستی پور۔مظفر پور ریل سیکشن کے بھولا ٹاکیز ریلوے گمٹی کے قریب بھی مظاہرین نے ٹرین میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی۔دریں اثناء مظاہرین نے آرہ کے کے کلہڑیا اسٹیشن پر کھڑی مسافر ٹرین کو بھی نذر آتش کر دیا۔ پٹنہ ۔مغل سرائے لائن پر آتشزدگی کی وجہ سے ٹرین آپریشن متاثر ہو گیا ۔ یہاں برونی۔کٹیہار ریل سیکشن پرریلوے ٹریک پر آگ لگا کر احتجاج کیا گیا۔ ادھر یوپی کے بلیا میں نوجوانوں نے احتجاج میں توڑ پھوڑ اور پتھراؤ کیا۔ جس کی وجہ سے پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔
دوسری طرف احتجاج کے دوران سکندرآباد (حیدر آباد)ریلوے اسٹیشن پر احتجاجیوں کو قابو کرنےکیلئے آرپی ایف کی فائرنگ میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔مہلوک کی شناخت ورنگل کے راکیش کے طورپر ہوئی ہے۔اس واقعہ میں دیگر ۸؍زخمی ہوئے ہیں۔ اس پیمانے کے تشدد کے بعد ریلوے پولیس نے پہلے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور طاقت کا استعمال کیا اور فائرنگ کرنے کا انتباہ دیا ۔ بعد ازاں صورتحال کو قابو میں آتا نہ دیکھ کرریلوے پولیس نے تقریباً ۱۵؍ راؤنڈ فائر کئے جس سے ایک شخص زخمی ہو گیا۔ اسے فوری طور پر علاج کے لئے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسے مردہ قراردیا گیا۔ پتھراؤ میں دو پولیس کانسٹیبل بھی زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پر اس وقت کشیدگی پھیل گئی تھی جب کئی نوجوانوں نے مرکز کی متنازع اسکیم کے خلاف احتجاج کیا۔ سیکڑوں احتجاجیوں نے ریلوے پٹریوں اور پلیٹ فارم پر گھس کرکھانے پینے کے اسٹالز اورسامان کو نقصان پہنچایا۔ ساتھ ہی تین ٹرینوں کو جزوی طور پر نذر آتش کر دیا۔اس کے علاوہ سگنلنگ سسٹم کو بھی نقصان پہنچا یااور ریلوے کی دیگر املاک بھی متاثر ہوئیں۔
دوسری طرف اتر پردیش کے شہر آگرہ اور اس سے ملحقہ متھرا اور فیروز آباد اضلاع میں نوجوانوں نے جمعہ کو دوسرے دن بھی احتجاج و مظاہرہ کیا۔متھرا میں صبح سے ہی نوجوان مختلف مقامات پر احتجاج کر رہے ہیں۔ آگرہ دہلی ہائی وے پر کئی مقامات پر نوجوان جام لگاکر بیٹھے ہیں۔ کوسی کلاں اور چھاتا کے علاوہ متھرا کے ہائی وے پر نوجوانوں کا قبضہ ہے۔ متھرا میں ہی نوجوانوں نے ریلوے لائن پر پہنچ کر جن شتابدی ایکسپریس روکنے کی کوشش کی۔ ادھر ہریانہ میں امن و امان کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہریانہ حکومت نے فرید آباد کے بلبھ گڑھ سب ڈویژن میں بھی انٹرنیٹ خدمات کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس سے قبل فرید آباد میں دفعہ۱۴۴؍ نافذ کی گئی تھی جبکہ پلول میں انٹرنیٹ خدمات کو معطل کر دیا گیا تھا۔ اگنی پتھ اسکیم کے اعلان کے بعد ہریانہ میں پرتشدد مظاہرے ہوئے اور پلول میں پولیس کی پانچ گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کی اطلاع ہے۔ گروگرام اور ریواڑی میں مظاہروں کی وجہ سے دہلی جے پور ہائی وے پر گھنٹوں ٹریفک جام رہا۔ جند، روہتک سمیت دیگر حصوں میں بھی مظاہرے کئے گئے۔ روہتک میں جند کے ایک نوجوان نے خودکشی کر لی تھی۔