نئی دہلی: 26/مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مرکزی حکومت نے نوٹ بند ی کے بعد جموں و کشمیر میں عسکریت پسندوں سے ضبط کی گئی ہندوستانی کرنسی کے سلسلے میں یہ کہتے ہوئے معلومات دینے سے انکار کر دیاہے کہ حق اطلاعات قانون 2005جموں و کشمیر پر لاگو نہیں ہوتا۔حق اطلاعات قانون کے تحت وزارت داخلہ کے جموں و کشمیر ڈویژن سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق، اس کے بارے میں معلومات مرکزی عوامی رابطہ افسر کے پاس موجود نہیں ہے، جموں و کشمیر میں عسکریت پسندوں سے ضبط ہندوستانی کرنسی کے سلسلے میں اس کا ذکر کیا جاتا ہے کہ اس سے منسلک معلومات ریاست جموں وکشمیر سے متعلق ہے، آپ اگر اہل ہوں، تو جموں و کشمیر حق اطلاعات قانون 2009کے تحت معلومات حاصل کر سکتے ہیں، حق اطلاعات قانون 2005جموں و کشمیر میں لاگو نہیں ہے۔آر ٹی آئی کے تحت 8/نومبر کو نوٹ بند ی کے فیصلے کے بعد جموں و کشمیر میں عسکریت پسندوں سے ضبط ہندوستانی کرنسی کے بارے میں معلومات طلب کی گئی تھی۔حالانکہ وزارت خزانہ کے اعداد و شمار میں یہ واضح طور پر سامنے آیا ہے کہ نوٹ بند ی کے بعد جموں وکشمیر میں بینکوں، کیش وین اور اے ٹی ایم کی لوٹ کے معاملوں میں تقریبا چار گنا اضافہ ہوا ہے۔پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال جولائی سے ستمبر تک جموں و کشمیر میں بینکوں، کیش وین اور اے ٹی ایم کی لوٹ کے چار معاملات میں 19.55لاکھ روپے لوٹے گئے،جبکہ اکتوبر سے دسمبر 2016تک ایسے 15معاملات میں 1.48کروڑ روپے کی لوٹ ہوئی۔دوسری طرف پارلیمنٹ میں ایک سوال کے تحریری جواب میں وزارت خزانہ کی طرف سے جاری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں گزشتہ سال جولائی سے ستمبر تک بینکوں، کیش وین اور اے ٹی ایم کی لوٹ کے 245معاملات میں 11.68کروڑ روپے کی لوٹ ہوئی،جبکہ اکتوبر سے دسمبر 2016میں بینکوں، کیش وین اور اے ٹی ایم کی لوٹ کے 271معاملے درج کئے گئے جس میں 12.85کروڑ روپے کی لوٹ ہوئی۔گزشتہ سال جولائی سے ستمبر تک آندھرا پردیش میں بینکوں، کیش وین اور اے ٹی ایم کی لوٹ کے 11واقعات پیش آئے،جو اکتوبر سے دسمبر 2016میں گھٹ کر 8رہ گئے،اکتوبر سے دسمبر کے درمیان 14.31لاکھ روپے کی لوٹ ہوئی۔