نئی دہلی:25/جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ہاراشٹر میں مراٹھا ریزرویشن تحریک اشتعال اختیار کرچکی ہے ۔اس دوران نیشنلسٹ کانگریس رہنما (این سی پی) نے مراٹھا ریزرویشن تحریک کو آگے بڑھانے کی حکمت عملی بنائی ہے۔ پارٹی صدر شرد پوار کی صدارت میں دہلی میں ہوئی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ میٹنگ میں این سی پی کے ممبران پارلیمنٹ نے شرکت کی۔ این سی پی نے لوک سبھا میں بھی ریزرویشن اور اس مانگ کو لے کر ہوئے مظاہروں کا مسئلہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سے پہلے منگل کو این سی پی صدر شرد پوار نے تحریک رکوانے کے لئے بات چیت کی اپیل کی تھی۔ سابق مرکزی وزیر شرد پوار نے منگل کی رات جاری کئے بیان میں افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کمیونٹی کے خدشات کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے وزیر اعلی اور کچھ وزراء نے اشتعال انگیز بیان دیا ہے۔مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلی پوار نے کہا کہ صورت حال کو فوری طور پر کنٹرول کیا جانا چاہیے۔ وزیر اعلی کو ریزرویشن کا مطالبہ کر رہے لوگوں کے نمائندوں سے بات کرکے تعطل کو ختم کرنے کے عمل پر فوری طور اقدام کرنا چاہیے ۔بھارتی کمیونسٹ پارٹی (مارکسی) بھی مراٹھا کمیونٹی کے لئے سرکاری ملازمتوں اور تعلیم میں 16 فیصد ریزرویشن کا مطالبہ کر رہی ہے ۔ واضح ہو کہ مہاراشٹر میں گزشتہ کئی دنوں سے ریزرویشن کو لے کر مراٹھا برادری کے لوگ تحریک میں پیش پیش ہیں ۔ پیر کو تحریک میں اس وقت شدت آئی جب ایک نوجوان نے اورنگ آباد میں گوداوری ندی میں کود کر جان دے دی تھی۔ اس کی مخالفت میں مظاہرین نے کل مہاراشٹر بند کا اعلان کیا تھا اور آج ممبئی بند بلایا ہے۔ریزرویشن کو لے کر آج صبح سے شروع ہوئے مراٹھا تنظیموں کے بند کے دوران ممبئی اور پڑوسی اضلاع تھانے اور نوی ممبئی میں سرکاری بسوں پر حملے ہوئے ہیں۔ ممبئی کے کانجو مارگ اوربھاندوپ علاقوں میں بی ای ایس ٹی کی دو بسوں پر مظاہرین نے حملے کئے ہیں۔ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے ایک افسر نے بتایا کہ بسوں پر ہو رہے پتھراؤ کو ذہن میں رکھتے ہوئے الیکٹرک سپلائی اینڈ ٹرانسپورٹ نے متاثرہ علاقوں میں اپنی سروس جزوی طور پر معطل کر دی ہے اور حالات بہتر ہونے پر ہی اس کے مکمل طور پر بحال کیا جائے گا ۔مظاہرین نے پڑوسی تھانہ ضلع کے واگلے اسٹیٹ علاقے میں بھی سرکاری ٹرانسپورٹ پر پتھراؤ کیا۔ انہوں نے تین ہاتھ ناکہ جنکشن سمیت کئی راستے بند کر دیے جس کی وجہ سے ممبئی جانے والی سڑکوں پر شدید جام لگ گیا۔ کچھ جگہوں پر مظاہرین نے مراٹھا برادری کی مبینہ طور پر توہین کرنے کے لئے مہاراشٹر کے وزیر اعلی دویندر فڑنویس اوروزیر چندراکانت کے خلاف نعرے بازی بھی کی