ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مدھیہ پردیش سیلاب: کم ہوتے پانی میں دکھائی دے رہا خوفناک منظر

مدھیہ پردیش سیلاب: کم ہوتے پانی میں دکھائی دے رہا خوفناک منظر

Fri, 26 Aug 2022 21:46:41    S.O. News Service

بھوپال، 26؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) مدھیہ پردیش میں ہوئی زوردار بارش کے بعد پیدا خوفناک حالات میں اب دھیرے دھیرے بہتری دیکھنے کو مل رہی ہے، لیکن اس درمیان جو تصویریں سامنے آ رہی ہیں وہ تباہی کی داستان پیش کر رہی ہیں۔ سڑکوں سے لے کر پل تک متاثر ہوئے ہیں اور ہزاروں مکانات منہدم ہو گئے ہیں۔ بڑی تعداد میں مویشیوں کی بھی موت ہوئی ہے۔ سینکڑوں کنبے اب بھی راحتی کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

ریاست میں گزشتہ دنوں ہوئی بارش کے سبب کئی مقامات پر سیلاب کے حالات بن گئے۔ سڑک ٹرانسپورٹیشن بری طرح متاثر ہوا اور جگہ جگہ جام لگ گئے۔ کئی بستیاں تو پوری طرح غرقاب ہونے کی حالت میں پہنچ گئیں۔ راجدھانی بھوپال میں تو کشتی تک چلانی پڑ گئی۔ ریاست کی اہم ندیوں نرمدا، پاروتی، بیتوا، کین، تمس، چنبل کی آبی سطح بڑھی اور اس کے کنارے بسی بستیاں غرقاب ہو گئیں۔ اب کئی ندیوں کی آبی سطح گرنے سے راحت محسوس کی جا رہی ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ برا حال گوالیر-چنبل علاقے میں ہے جہاں چنبل ندی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھنڈ، مرینا اور شیوپور کے کئی گاؤں بحران میں گھرے ہوئے ہیں۔ مصیبت میں گھرے گاؤں کے لوگوں کو محفوظ باہر نکال کر راحت کیمپوں تک لانے کے لیے این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، ہوم گارڈ کے جوانوں کے علاوہ فضائیہ کے ہیلی کاپٹر کی بھی مدد لی جا رہی ہے۔

مرینا ضلع کے تقریباً 50 گاؤں سیلاب سے متاثر ہیں اور یہاں کے 900 سے زیادہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے۔ بھنڈ ضلع میں بھی 10 سے زائد گاؤں میں پانی بھر گیا ہے۔ شیوپور کا بھی یہی حال ہے۔ یہاں 40 گاؤں سیلاب کی زد میں ہے اور یہاں پانی نے خوب تباہی مچائی ہے۔ جو لوگ محفوظ مقامات پر پہنچ گئے ہیں وہ تو ٹھیک ہیں، لیکن کئی کنبے ایسے ہیں جو اب بھی اپنے گھروں کی چھت پر سامان کے ساتھ ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں۔

جن علاقوں میں سیلاب کا پانی کم ہو رہا ہے وہاں سے جو تصویر سامنے آ رہی ہے، وہ خوفناک ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ مکان منہدم ہو چکے ہیں، سڑک اور پلیا بری طرح ٹوٹ پھوٹ گئی ہیں اور بڑی تعداد میں مویشیوں کی بھی موت ہوئی ہے۔ راج گڑھ ضلع میں تو بارش نے چار درجن سے زائد مویشیوں کا شکار کر لیا۔ یہاں کی نندراکھیڑی واقع ایک گئوشالہ میں بارش کا پانی بھر گیا اور گئوشالہ کا ملازم تالا لگا کر چلا گیا۔ جب پانی اترا تو مویشی مردہ ملے۔ کئی مویشیوں کی لاش درختوں پر لٹکے تھے تو کئی پانی میں تیر رہے تھے۔ اسی طرح کی تصویریں ریاست کے دیگر علاقوں سے بھی سامنے آ رہی ہیں۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ سیلاب متاثر علاقوں میں راحت اور بچاؤ کام جاری ہے۔ مرینا، شیوپور، بھنڈ ضلع کے انتظامیہ سے انھوں نے رپورٹ منگائی ہے۔ ساتھ ہی لوگوں سے اپیل کی ہے کہ جو لوگ راحت کیمپوں میں ہیں، وہ ابھی وہیں ٹھہریں۔ اس زبردست بارش کے سبب بڑے پیمانے پر فصلوں کو بھی نقصان ہوا ہے۔ سویابین، اڑد، مونگ، ارہر کی فصلیں بری طرح برباد ہوئی ہیں اور دھان کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔ ریاستی حکومت نقصان کے اندازے کے لیے سروے کرا رہی ہے۔


Share: