چنئی، 18؍ جون (ایس او نیوز؍یو این آئی) مدراس ہائی کورٹ نے راجیو گاندھی قتل کیس میں عمرقید کی سزا سنائی ہے - نلنی اور آر پی روی چندرن کی قبل از وقت رہائی کا مطالبہ کرنے والی عرضی جمعہ کو خارج کر دی گئی- سرکاری ذرائع نے یہ اطلاع دی- سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کیس میں سزا یافتہ نلنی اور روی چندرن نے قبل از وقت رہائی کیلئے مدراس ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ وزراء کی کونسل کی سفارشات کے مطابق عمل کرنے میں ناکام رہنے والے گورنر کی کارروائی غیر آئینی ہے -درخواست میں ریاست کو یہ ہدایت دینے کی بھی مانگ کی گئی ہے کہ درخواست گزار کو تمل ناڈو کے گورنر کی منظوری کے بغیر فوری طور پر جیل سے رہا کیا جائے - درخواست گزار نے یہ بھی کہا کہ وہ2001میں ہی قبل از وقت رہائی کا اہل ہو گیا تھا، اس کے باوجود اسے رہا نہیں کیا گیا-چیف جسٹس منشور ناتھ بھنڈاری اور جسٹس این مالا کی بنچ نے مشاہدہ کیا کہ ہائی کورٹ کو آئین کے آرٹیکل142کے تحت خصوصی اختیارات حاصل نہیں ہیں -
اس لیے یہ اس کی رہائی کا حکم نہیں دے سکتا، جیسا کہ سپریم کورٹ نے قتل کیس کے ایک اور مجرم پیراریوالن کیلئے کیا تھا، اس لیے درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا گیا-9ستمبر2018کو قتل کی مجرم نلنی نے تمام مجرموں کی رہائی کے سلسلے میں ریاستی کابینہ کی طرف سے گورنر کو دی گئی سفارش کی بنیاد پر اپنی رہائی کیلئے درخواست دائر کی تھی-تملناڈو کی کابینہ نے گورنر کو آئین کے آرٹیکل161کے تحت درخواست گزار کو رہا کرنے کا مشورہ دیا تھا-