لکھنؤ،3جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)یوپی پولیس نے پیر کو لکھنؤ پریس کلب میں پریس کانفرنس کر رہے بہت سے دلت کارکنوں کو گرفتار کر لیا،اگرچہ بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔پولیس نے کہا کہ انہوں نے ان کارکنوں کو اس لیے گرفتار کیا، کیونکہ انہوں نے پریس کانفرنس کے بعد وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کی رہائش گاہ تک مارچ کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی، جس کی انہیں اجازت نہیں ملی ہوئی تھی۔گرفتار کئے گئے دلت کارکنوں میں شامل رمیش دکشت، رام کمار اور ریٹائرڈ بیوروکریٹ آرایس داراپری نے بتایا کہ انہوں نے دلتوں کے ظلم و ستم پر بحث کے واسطے پریس کانفرنس بلائی تھی۔داراپری نے کہا کہ جھانسی میں اتوار کو تقریبا 50دلتوں کو لکھنؤ آنے سے روک دیا گیا۔یہ لوگ وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے ملنا چاہتے تھے اور انہیں ایک بہت بڑے صابن کاٹکیا ہدیہ کرنا چاہتے تھے۔یہ گروپ گجرات کے احمد آباد سے آ رہا تھا اور وہ اپنے ساتھ 125کلو کے صابن کاٹکیا یوپی کے وزیر اعلی کو دینا چاہتے تھے۔
غور طلب ہے کہ مئی مہینے میں یوپی کے کشی نگر ضلع کے دلت لوگوں نے الزام لگایا تھا کہ وزیر اعلی کے دورے سے پہلے مقامی انتظامیہ نے انہیں صابن اور شیمپو دیئے تھے۔ریاست کے غریب ترین سمجھے جانے مسہر طبقے کے لوگوں نے کہا تھا کہ کشی نگر میں یوگی آدتیہ ناتھ کے پروگرام سے پہلے ان سے مقامی انتظامیہ نے اچھے طریقے سے نہا دھوکر آنے کو کہا تھا۔
گجرات کی دلت کمیونٹی کے لوگوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کو لے کر علامتی مخالفت کے طور پر وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو ذاتی طور پر صابن ہدیہ کرنا چاہتے تھے۔پولیس نے بغیر کوئی وجہ بتائے ان سے جھانسی میں ٹرین سے اترنے کو کہا،اگرچہ جن لوگوں کو ٹرین سے اتارا گیا، انہوں نے کہا کہ سیکورٹی وجوہات سے انہیں ٹرین سے اترنے کو کہا گیا۔انہیں ایک مقامی گیسٹ ہاؤس میں لے جایا گیا اور بعد میں ٹرین سے واپس احمدآباد بھیج دیا گیا۔