آستانہ،25جنوری(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)وسطی ایشیائی ریاست قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں شام میں قیام امن سے متعلق مذاکرات کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔ ان مذاکرات میں یہ ضرور طے کیا گیا کہ فائربندی کے عمل کی نگرانی کی جائے گی۔ روسی وفد کے سربراہ الیگزانڈر لیورن ٹیئف نے ان مذاکرات کو شامی تنازعے کے حل کے لیے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا۔ آستانہ مذاکرات روس، ترکی اور ایران کی کوششوں سے شروع ہوئے تھے۔ امریکا ان مذاکرات میں بطور مبصر شریک تھا۔ اقوام متحدہ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیفان ڈے مستورا بھی آستانہ میں مذاکراتی عمل میں شریک رہے۔ گزشتہ نو ماہ کے دوران یہ اپنی نوعیت کے پہلے مذاکرات تھے جن میں بشار الاسد حکومت اور شامی اپوزیشن کے مختلف گروپوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔