ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / غزہ میں امداد کے منتظر افراد کےقتل عام کی دُنیا بھر میں مذمت

غزہ میں امداد کے منتظر افراد کےقتل عام کی دُنیا بھر میں مذمت

Sat, 02 Mar 2024 12:45:36    S.O. News Service

غزہ، 2/مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی ) غزہ میں بھوک سے نڈھال فلسطینی شہریوں کو  امداد کے حصول  کے دوران انتہائی بےدردی سے نشانہ بنانے اور ۱۱۲؍ افراد شہید نیز ۷۰۰؍ سے زائد کو زخمی کردینے کے معاملے میں تل ابیب کے خلاف پوری دنیا میں غصہ پھیل گیا ہے۔ اس کی اس درندگی پر فرانس جیسا اس کا اتحادی  بھی چیخ اٹھا ہے جبکہ اقوام متحدہ نے آزادانہ جانچ کی ضرورت پر زور دیاہے۔ 

یاد رہے کہ اسرائیل نے جمعرات کو انسانیت کی تمام حدوںکوپار کرتے ہوئے شمالی غزہ میں  ان افراد پر حملہ کیا جو بھوک سے نڈھال ہیں اور غذا کے حصول کیلئے امدادی ٹرکوں کے آس پاس قطار لگاکر کھڑے ہوئے تھے۔اس حملے میں الجزیرہ نے ۱۱۲؍ افراد کے شہید ہونے اور ۷؍ سو سے زیادہ کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔  واضح رہے کہ شمالی غزہ جہاں یہ اندوہناک حملہ کیاگیا، وہ علاقہ ہے جہاں  اسرائیل امداد نہیں پہنچنے دے رہا ہے۔اس کی وجہ سے یہاں شدید بھکمری کی کیفیت ہے۔ ایسے میں چند ایک امدادی ٹرک پہنچتے ہیں تو امداد حاصل کرنے کیلئے ضرورت مندوں کا جم غفیر امڈ آتا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق جمعرات کو عین اس وقت جب سیکڑوں افراد امداد کے حصول کیلئے اکٹھا تھے، اسرائیلی فوجوں نےبے تحاشہ فائرنگ کردی۔ 

 اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے اسرائیلی فوج کی فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے  اسے  ناقابل برداشت عمل  قراردیاہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے۔ سیکریٹری  جنرل نے مطالبہ کیا کہ غزہ میں امدادی سامان لینے والوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ  میں ۱۰۰؍ سے زائد اموات کی جانچ آزادانہ طور پر کی جانی چاہیے۔ 

فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے بھی اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے جب کہ اسپین نے نہتے اور بھوک و افلاس کے شکار فلسطینیوں پر اسرائیلی فائرنگ کو بلاجواز قرار دیا۔ یورپی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امداد کے منتظر فلسطینیوں کا قتل عام ناقابل قبول ہے۔ فرانس نے اس معاملے میں  اسرائیل سے جواب طلب کرنے کی بات بھی کہی ہے۔ 

اسرائیل کی اندھی حمایت کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے امریکہ نے جمعرات کی مذکورہ انسانیت سوز کارروائی کی بھی مذمت کرنے سے گریز کیا ہے۔  واشنگٹن نےا س ضمن میں جاری کئے گئے بیان میں کہا ہے کہ وہ حملے کے تعلق سے ۲؍ متضاد دعوؤں کی جانچ کررہاہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے جس طرح اسپتال پر حملے کے بعد دروغ گوئی کا سہارا لیاتھا،اسی طرح جمعرات کے قتل عام کے بعد  بھی اس نے اس حملے میں ملوث نہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکہ ان ممالک میں سر فہرست ہے جو اسرائیلی دعوے کو من وعن تسلیم کرتا ہے۔

اسرائیل کی اس درندگی  سے اسے سفارتی محاذ پر بھی نقصان پہنچنے کی امید ہے۔ اس بیچ  جنگ بندی کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حماس نے دھمکی دی ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ جاری مذاکرات ختم کردے گا۔ امید کی جارہی تھی کہ آئندہ پیر تک جنگ بندی ہوسکتی ہے۔ 

اس بیچ  کولمبیا نے غزہ میں امدادی سامان کے منتظر فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے صہیونی ریاست سے ہتھیاروں کی خریداری روک دی ہے۔  کولمبیا کے صدر گستاو پیٹرو نے امدادی اشیا کیلئے اکٹھا فلسطینیوں پر فائرنگ کا ذمہ دار اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو قرار دیتے ہوئے احتجاجاً اسرائیل سے اسلحے کی خریداری کو معطل کرنے کا اعلان کردیا۔


Share: