سیتاپور، 12/فروری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سیتاپور میں مایاوتی نے ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوپی میں بی ایس پی مکمل اکثریت کی حکومت بنائے گی۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں ایس پی کی پانچ سال اور مرکز میں بی جے پی کی پونے تین سال کی مدت کار کے دوران غلط پالیسیوں کی وجہ سے لوگوں میں غم وغصہ ہے، اب عوام انہیں سبق سکھائے گی۔مایاوتی نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی تو سی ایم امیدوار دینے کی ہمت نہیں جٹا پائی ہے۔سماج وادی پارٹی کے دور میں غنڈہ راج اور بدعنوانی ہی رہی ہے۔کانگریس اتحادکرکے الیکشن لڑ رہی ہے،کانگریس نے 37سالوں تک یہاں حکومت کی ہے اور مرکز میں 54سال تک حکومت کی ہے۔بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ اب عوام کو طے کرنا ہے کہ کیا وہ کرائم والی پارٹی کو ووٹ دے گی یا پھر قانون کی حکمرانی کے لیے بی ایس پی کو ووٹ دے گی۔مایاوتی نے کہا کہ موجودہ حکومت کی وجہ سے ریاست میں مظفرنگر سمیت 500سے زیادہ فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ہیں۔مایاوتی نے کہا کہ کروڑوں روپے ایس پی حکومت نے میڈیا پر خرچ کئے جو عوامی مفاد کے کام میں خرچ کئے جا سکتے تھے، اس کے علاوہ بی جے پی پر حملہ بولتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوٹ بند ی کو لے کر بی جے پی لیڈروں کو پہلے ہی معلوم تھا، نوٹ بند ی سے کروڑوں لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں،سرمایہ داروں کی بلیک منی پہلے ہی ٹھکانے لگوا دی گئی، اب بی جے پی کو کسی پر الزام لگانے کا حق نہیں ہے۔وزیر اعظم مودی پر نشانہ سادھتے ہوئے مایاوتی نے کہاکہ وزیر اعظم نے ابھی تک ایک بڑا کام کیا ہے، انہوں نے بڑے بڑے سرمایہ دارو ں کو اور مالدار بنا دیا ہے،بی جے پی مرکزکی طرح ریاست میں بھی اقتدار میں آنے کا خواب دیکھ رہی ہے،بی جے پی آرایس ایس کے ایجنڈے پرچلتے ہوئے ریزرویشن ختم کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔