ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / عشرت جہاں فرضی انکاؤنٹرمعاملہ:پہلے یہ ثابت کریں کہ آپ ہندوستانی ہیں!

عشرت جہاں فرضی انکاؤنٹرمعاملہ:پہلے یہ ثابت کریں کہ آپ ہندوستانی ہیں!

Thu, 16 Jun 2016 11:05:33    S.O. News Service

گمشدہ فائلوں سے منسلک تفصیلات مانگنے والے آرٹی آئی درخواست گزار سے وزارت داخلہ نے کہا

نئی دہلی، 15جون؍(آئی این ایس انڈیا)تعصب اور تنگ نظری ثابت کرنے والے ایک واقعہ میں وزارت داخلہ نے عشرت جہاں مبینہ فرضی تصادم معاملے سے منسلک گمشدہ فائلوں سے متعلق معاملے کو دیکھنے والی ایک رکنی کمیٹی کی تفصیلات ظاہر کرنے سے پہلے ایک آر ٹی آئی درخواست گزار سے یہ ثابت کرنے کو کہا ہے کہ وہ ہندوستانی ہے۔سینئر آئی اے ایس افسر، وزارت داخلہ میں ایڈیشنل سکریٹری بی کے پرساد انکوائری کمیٹی کی صدارت کر رہے ہیں۔وزارت میں دائر آر ٹی آئی درخواست میں کمیٹی کی جانب سے پیش کی رپورٹ کے مطابق کے علاوہ پرساد کو دی گئی سروس تفصیل سے منسلک فائل نوٹنگ کی تفصیلات مانگی گئی تھی۔وزارت داخلہ نے اپنے جواب میں کہا کہ اس سلسلے میں یہ زور دیا جاتا ہے کہ آپ براۂ مہربانی اپنی ہندوستانی شہریت کا ثبوت فراہم کریں۔حقوق اطلاعات ایکٹ 2005کے تحت صرف ہندوستانی شہری ہی معلومات مانگ سکتا ہے۔اس قانون کے تحت عام طور پر درخواست گزارکے لئے شہریت کے ثبوت کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔غیر معمولی معاملات میں ایک بڑے پیمانے پر رابطہ افسر شہریت کا ثبوت مانگ سکتا ہے اگر اسے درخواست کرنے والے کی شہریت کو لے کر کوئی شک ہو۔ہندوستانی شہریت کا ثبوت مانگنے کی حوصلہ شکنی کئے جانے کی ضرورت ہے۔ایسا لگتا ہے کہ وزارت داخلہ اطلاع دینے میں تاخیر کرنا چاہتی ہے۔جانچ کمیٹی کی صدارت کرنے والے پرساد تمل ناڈو کیڈر کے 1983بیچ کے آئی اے ایس افسر ہیں اور انہیں 31مئی کو ریٹائرڈ ہونا ہے۔انہیں دو ماہ کی سروس توسیع دی گئی ہے جو 31جولائی تک ہے۔قابل ذکر ہے کہ اس سال مارچ میں پارلیمنٹ میں ہنگامے کے بعد وزارت داخلہ نے پرساد سے گمشدہ فائلوں سے منسلک تمام معاملے کی تحقیقات کرنے کو کہا تھا۔اس کمیٹی نے ابھی تک رپورٹ نہیں پیش کی ہے۔19سالہ عشرت جہاں اور تین دیگر سال 2004میں گجرات میں مبینہ فرضی تصادم میں مارے گئے تھے۔گجرات پولیس نے تب کہا تھا کہ مارے گئے لوگ لشکر طیبہ کے دہشت گرد ہیں اور اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی کو قتل کرنے گجرات آئے تھے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ تحقیقاتی کمیٹی کو حال ہی میں اس وقت کے داخلہ سکریٹری جی کے پلے کی طرف سے اس وقت کے اٹارنی جنرل آنجہانی جی ای واہن وتی کو لکھا خط وزارت داخلہ کے ایک کمپیوٹر کے ہارڈ ڈسک سے ملا تھا۔وزارت داخلہ سے غائب کاغذات میں ایک حلف نامہ بھی شامل ہے جسے گجرات ہائی کورٹ میں 2009میں پیش کیا گیا تھا۔اس میں دوسرے حلف نامے کا مسودہ بھی شامل ہے۔پلے کی جانب سے واہن وتی کو لکھے دو خط اور ڈرافٹ حلف نامہ کا ابھی تک پتہ نہیں چلا ہے۔


Share: