نئی دہلی:24/جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے لوک پال کے لئے تلاش کمیٹی کے ارکان کی تقرری کے معاملے میں حکومت کے جواب پر آج عدم اطمینان ظاہر کیا۔جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس آر بھانومتی اور جسٹس نوین سنہا کے بنچ نے مرکز سے تلاش کمیٹی سے متعلقہ تفصیلات کے ساتھ نیا حلف نامہ داخل کرنے کو کہا ہے۔ اس معاملے کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے بنچ کے سامنے ایک حلف نامہ پیش کیا اور کہا کہ سلیکشن کمیٹی کی میٹنگ 19 جولائی کو ہوئی تھی لیکن اس میں تلاش کمیٹی کے ارکان کی حتمی شکل نہیں دی جا سکی۔انہوں نے کہا کہ ان تقرریوں کے بارے میں قانون کی دفعات کو ذہن میں رکھتے ہوئے تلاش کمیٹی کے ارکان کی تقرری کے لیے جلد ہی ایک اور میٹنگ ہوگی۔ غیر سرکاری تنظیم ’کامن کاج‘ کی جانب سے وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ مرکز نے سلیکشن کمیٹی کی اگلی میٹنگ کی کسی خاص تاریخ کا ذکر نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ مرکز واقعی لوک پال قانون بننے کے پانچ سال بعد بھی اس میں تاخیر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کو حکام کے خلاف اب اہانتی کارروائی شروع کرنی چاہئے یا پھر عدالت کو ہی آئین کے آرٹیکل 142 میں فراہم کردہ حقوق کا استعمال کرکے لوک پال کی تقرری کر دینی چاہئے۔ بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ وہ مرکز کے جواب سے مطمئن نہیں ہے۔ بنچ نے مرکز کو چار ہفتوں کے اندر ضروری تفصیلات کے ساتھ نیا حلف نامہ دائر کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس سے پہلے حکومت نے ایک حلف نامہ داخل کر عدالت کو مطلع کیا تھا کہ سلیکشن کمیٹی کی اب تک 1 مارچ اور10 اپریل کو دو میٹنگیں ہو چکی ہیں۔ حلف نامے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ سلیکشن کمیٹی میں سینئر وکیل پی پی راؤ کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئے قانون دان کے عہدے پر سابق اٹارنی جنرل مکل روہتگی کو مقرر کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے حکومت نے لوک پال اور لوک آیکت قانون 2013 کی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ سلیکشن کمیٹی کو تلاش کمیٹی تشکیل کرنی ہے جو لوک پال ادارے کے چیئرمین اور ارکان کے ناموں کا پینل تیار کرے گی۔