نئی دہلی، 7؍ جنوری (ایس او نیوز؍ایجنسی) پچھلے سال نومبر میں‘ مذکورہ عدالت نے گیان واپی مسجد کمیٹی کے مذکورہ درخواست پر اعتراض کو مسترد کردیاتھا۔وارناسی۔گیان واپی عمارت کے اندر مبینہ’شیولنگ‘ کی پوجا کے حق کی مانگ پر مشتمل درخواست کی سنوائی کررہی ایک فاسٹ ٹریک عدالت نے جمعرات کے روز مسجد کمیٹی‘ مذکورہ ضلع انتظامیہ اور وشواناتھ مندر ٹرسٹ سے 21جنوری تک اپنے جواب داخل کرنے کااستفسار کیاہے۔
پچھلے سال نومبر میں عدالت نے گیان واپی مسجد کمیٹی کی درخواست پر اعتراض کو مسترد کردیاتھا-فاسٹ ٹریک کورٹ کے جج مہیندر کمار پانڈے نے کرن سنگھ کی درخواست کی شنوائی کے دوران جواب دہندوں سے کہا کہ وہ21جنوری تک اپنے جواب داخل کریں ”ضلع اسٹنٹ گورنمنٹ کونسل سولبھ پرکاش نے یہ بات کہی ہے-
وشواہندو ویدک سناتھن سنگھ کے جنرل سکریٹری درخواست گذار کرن سنگھ نے پچھلے سال24مئی کے روز واراناسی ضلع عدالت میں ایک درخواست دائر کی تھی، گیانی واپی عمارت میں مسلمانوں کے داخلوں پر پابندی کی مانگ کی،سناتھن سنگھ کے حوالے عبادت کرنے اورشیولنگ کی پوجا کرنے کی اجازت مانگی تھی جس کے متعلق مسجد عمارت سے دستیابی کا دعویٰ کیاجارہا ہے-
ضلع جج اے کے ویشویش نے25مئی کو معاملے کو فاسٹ ٹریک عدالت میں منتقل کرنے کا حکم دیا تھا-
اپریل26کے روز ایک نچلی عدالت (سیول جج سینئر ڈویثرن)جس نے اس سے قبل عورتوں کے ایک گروپ کی درخواست پر شنوائی کی تھی جنہیں نے مسجد کی باہری دیوار پر ہندو دیوی دیوتاؤں کی مورتیوں کی پوجا کی مانگ کی تھی، گیان واپی عمارت کے ویڈیو سروے کا حکم دیاہے-
ہندو فریق نے دعویٰ کیاتھا کہ مسجد کی عمارت کے اندر ویڈیو سروے کے دوران”شیو لنگ“پایاگیاہے-تاہم مسلم فریق کا یہ استدلال ہے کہ جو چیز پائی گئی ہے وہ”وضو خانہ“کے حوض سے متصل فاؤنٹین ہے”جہا ں سے مصلیان مسجد نماز کی ادائیگی سے قبل وضو کرتے ہیں -“