ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / صدر ہند کا خطاب ریاستی حکومت نے تیار نہیں کیا؛ٹیپو سلطان کاتذکرہ کرکے صدر ہند سچائی سے کام لیا ہے: سدرامیا

صدر ہند کا خطاب ریاستی حکومت نے تیار نہیں کیا؛ٹیپو سلطان کاتذکرہ کرکے صدر ہند سچائی سے کام لیا ہے: سدرامیا

Thu, 26 Oct 2017 10:53:17    S.O. News Service

بنگلورو، 25؍اکتوبر (ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے کہ ریاستی حکومت نے صدر جمہوریہ رامناتھ کووند کے خطاب کو تیار کیا تھا۔ ریاستی لیجسلیچر کے مشترکہ اجلاس سے صدر ہند کے خطاب میں شیر میسور حضرت ٹیپو سلطان کے تذکرہ کو لے کر ریاستی بی جے پی کی طرف سے کئے گئے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ریاستی حکومت کی طرف سے راشٹرپتی بھون کو صدر ہند کی تقریر کے متعلق کوئی تفصیل روانہ نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے واضح کیاکہ لیجسلیچر کے مشترکہ اجلاس سے گورنر کے خطاب کی مانند ایوان سے صدر جمہوریہ کا خطاب مختلف ہے۔ اس خطاب کیلئے ریاستی حکومت کی طرف سے راشٹر پتی بھون کو کسی طرح کامواد یا تفصیل مہیا نہیں کرائی گئی۔ بہر حال صدر جمہوریہ نے اپنے خطاب میں سچائی سے کام لیا ہے جس کیلئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ صدر ہند کی اس حقیقت پسندی پر چراغپا بی جے پی غیر ضروری طور پر تنازعہ کھڑا کرنے کی کوشش کررہی ہے جوقابل مذمت اور قابل افسوس ہے۔ اس سوال پر کہ بی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ ریاستی سکریٹریٹ کی طرف سے روانہ کئے گئے نوٹ کی بنیاد پر صدر جمہوریہ نے ایوانوں سے خطاب کیا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ دفتر وزیراعلیٰ یا دفتر چیف سکریٹری یا سرکاری سکریٹریٹ سے راشٹرپتی بھون کو کوئی تفصیل مہیا نہیں کرائی گئی۔ انہوں نے کہاکہ جس وقت جگدیش شٹر وزیراعلیٰ رہے اس وقت انہوں نے ٹیپو سلطان شہید کے متعلق پروفیسر بی شیخ علی کی کتاب میں دیباچہ لکھا جس میں شٹر نے ٹیپو سلطان شہید کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔آج وہی جگدیش شٹر ٹیپوسلطان کو غدار کہہ رہے ہیں۔ سدرامیا نے شٹر سے کہاکہ وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہیں کہ انہوں نے اس وقت سچ کہا تھا یا اب سچ کہہ رہے ہیں۔آج بی جے پی والوں کی نظروں میں ٹیپو سلطان کنڑا دشمن اور ہندو دشمن ہیں لیکن یڈیورپا کو جب بی جے پی سے نکال دیا گیا اور کے جے پی صدر کی حیثیت سے شوبھا کارند لاجے کے ہمراہ جب یڈیورپا ٹیپو سلطان کے مزار پر حاضر ہوئے تو اس وقت انہوں نے ٹیپو سلطان کی قسم کھائی تھی کہ دوبارہ بی جے پی میں نہیں جائیں گے۔آج یڈیورپا بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد ٹیپو سلطان کو بدنام کرنے پر اتر آئے ہیں۔ سدرامیا نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ بی جے پی والوں کی ایک نہیں دو زبانیں ہیں۔ ایک سے جھوٹ بولتے ہیں اور دوسری مطلب کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ جھوٹ بولنے میں ماہر بی جے پی کے لیڈران دانستہ طور پر نظر انداز کررہے ہیں کہ کس موقع پر کیا کہاتھا۔ صدر جمہوریہ کے خطاب میں سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا کا تذکرہ نہ کئے جانے پر جنتادل (ایس) قائدین کی ناراضگی کے تعلق سے سدرامیا نے واضح کیا کہ صدر جمہوریہ کی طرف سے پیش کئے گئے خطاب میں ریاستی حکومت کا کوئی رول نہیں ہے۔ اور انہیں نہیں لگتا کہ صدر ہند نے دانستہ طور پر دیوے گوڈا کا نام نظر انداز کیا ہوگا۔ ہوسکتاہے کہ بھول گئے ہوں۔


Share: