نئی دہلی، 12/اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )حکومت نے آج لوک سبھا میں کہا کہ 2014-15میں ملک کے مختلف حصوں میں صحافیوں پر حملوں کے 142واقعات سامنے آئے ہیں، تاہم صحافیوں پر حملوں کو لے کر علیحدہ قانون بنانے کا اس کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور موجودہ قانون کافی ہیں۔ایوان میں آج کئی ارکان نے صحافیوں پر حملے کے مسئلے کو اٹھاتے ہوئے حکومت سے اس سلسلے میں الگ قانون بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیرمملکت برائے داخلہ ہنس راج گنگارام اہیر نے وقفہ سوال میں کہا کہ صحافی یا کسی خصوصی کاروبار کے لوگوں کی حفاظت کے لیے الگ قانون بنانے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں سمیت تمام شہریوں کی حفاظت کے لیے ملک میں پہلے سے موجود قانون کافی ہیں۔صحافیوں کے معاملے میں پریس کونسل آف انڈیا(پی سی آئی) کے ذریعے شکایات پر نوٹس لیا جاتا ہے۔وزیر نے بتایا کہ پی سی آئی کی ایک ذیلی کمیٹی نے وزارت داخلہ کو اس سلسلے میں کچھ سفارشات بھیجی تھیں، لیکن ابھی تک ہم نے انہیں قبول نہیں کیا ہے۔اہیر نے کہا کہ پولیس اور قانون وانتظام ریاست کا موضوع ہے اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کرانا ریاست کی ذمہ داری ہے، مرکز اس میں مداخلت نہیں کرتاہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں یہ بھی کہا کہ حملوں میں ہلاک ہوئے صحافیوں کے خاندان والوں کو مرکز یا ریاستی حکومت کی طرف سے معاوضہ کی کوئی تجویز نہیں ہے۔صحافی جس ادارے میں ملازم ہوتے ہیں، وہی معاوضہ دیتے ہیں۔وزیر نے بتایا کہ 2014-15میں ملک کے مختلف حصوں میں صحافیوں پر حملوں کے 142واقعات سامنے آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2014میں صحافیوں پر حملوں کے 114واقعات سامنے آئے تھے، جن میں 32افراد کو گرفتار کیا گیاتھا۔2015میں 28ایسے واقعات پیش آئے، جن میں 41افراد کو گرفتار کیا گیا۔بہار کے سیوان میں صحافی راجدیو رنجن کے قتل کے معاملے میں ایک رکن کے سوال کے جواب میں وزیر نے کہا کہ ریاستی حکومت کی سفارش پر اس معاملے میں سی بی آئی جانچ چل رہی ہے۔