دہرا دون ، 9جنوری (ایس او نیوز؍ایجنسی) جوشی مٹھ میں زمین دھنسنے کے واقعات کو دیکھ کر ہر کوئی خوف زدہ ہے۔زمیں دوز ہو رہے اس شہر کو اب بچا پانا مشکل سا معلوم پڑ رہا ہے۔ حالانکہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں اس کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔دوسری طرف آدی گرو شنکراچاریہ مٹھ کی جگہ بھی زمین دھنسنے کے واقعہ کا شکار ہونے لگی ہے۔ مٹھ کی جگہ میں موجود شیو مندر تقریباً 6 انچ دھنس گیا ہے اور یہاں رکھے شیولنگ میں شگاف پڑ گیا ہے۔
مندر کے جیوترمٹھ کا مادھو آشرم وغیرہ شنکراچاریہ نے بسایا تھا۔ یہاں ملک بھر سے طلبا ویدک تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں۔ اس وقت بھی 60 طلبا یہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ دراصل آدی گرو شنکراچاریہ مٹھ کی جگہ کے اندر ہی شیو مندر ہے۔ اس مندر میں کئی لوگوں کی عقیدت ہے۔ 2000 میں شیولنگ جئے پور سے لا کر قائم کیا گیا تھا۔اتنا ہی نہیں، عقیدے کے مطابق شنکراچاریہ نے آج سے 2500 سال قبل جس کلپ درخت کے نیچے گپھا کے اندر بیٹھ کرگیان حاصل کی تھا، آج اس کلپ درخت کا وجود مٹنے کے دہانے پر ہے۔ اس کے علاوہ احاطہ کی عمارتوں، لکشمی نارائن مندر کے آس پاس بڑی بڑی دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ جیوترمٹھ کے انچارج برہمچاری مکند آنند نے بتایا کہ مٹھ کے داخلی دروازے، لکشمی نارائن مندر اور جلسہ گاہ میں شگاف پڑ گئے ہیں۔
اسی احاطے میں ٹوٹکاچاریہ گپھا، تریپور سندری راج راجیشوری مندر اور جیوتش پیٹھ کے شنکراچاریہ کی گدی والی جگہ ہے۔مندر کے پجاری وشسٹھ برہمچاری نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ تقریباً 13-12 ماہ سے یہاں دھیرے دھیرے دراڑیں آرہی تھیں۔ لیکن کسی کو یہ اندازہ تک نہیں تھا کہ حالات یہاں تک پہنچ جائیں گے۔ پہلے دراڑوں کو سیمنٹ لگا کر روکنے کی کوشش کی جا رہی تھی، لیکن گزشتہ سات آٹھ دن میں حالات مزید بگڑنے لگے ہیں۔