بنگلورو:22/اپریل(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا کے موقف کے برعکس وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا کہ ریاست میں کانگریس پارٹی ہم خیال سیکولر سیاسی جماعت کے ساتھ مفاہمت کیلئے تیار ہے،بشرطیکہ اس پارٹی کی طرف سے پہل کی جائے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بی جے پی کی طرف سے اسمبلی کی 150سیٹوں پر قبضے کے منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے حکمت عملی وضع کی جاچکی ہے، ریاست میں اگر سیکولر سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہوتا ہے تو وہ اور وزیر اعلیٰ سدرامیا اس اتحاد کا خیر مقدم کریں گے۔ ریاست بھر میں نقلی ڈاکٹروں کی بھرمار کے متعلق سوال پر وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہاکہ اعلیٰ پولیس افسران سے کہا گیا ہے کہ ان ڈاکٹروں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ڈاکٹر پرمیشور نے کہاکہ ملک میں فرقہ پرست طاقتوں نے جس طرح اقتدار پر قبضہ کیا ہے اور عوام کیلئے دن بدن مصیبت بنتی جارہی ہیں، ان حالات میں سیاسی جماعتوں کو متحد ہونا ضروری ہوچکا ہے۔انہوں نے کہاکہ بہار کے نتیش کمار، صدر کانگریس سونیا گاندھی، مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، اڑیسہ کے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک اور دیگر کی طرف سے سیکولر سیاسی اتحاد قائم کرنے کیلئے ہم خیال جماعتوں کو متحد کرنے کی جو پہل کی جارہی ہے وہ خوش آئندہے۔ سیکولر سیاسی جماعتوں میں اتحاد آنے والے دنوں کیلئے ایک اچھا پیغام پہنچانے کا سبب بنے گا۔ریاستی اسمبلی کی 150 سیٹوں پر قبضہ کرنے بی جے پی کے دعوے کو خواب خرگوش قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر پرمیشور نے کہاکہ اگلے انتخابات میں دوبارہ کانگریس کا اقتدار پر برقرار رہنا صدفیصد یقینی ہے۔ پارٹی کی طرف سے کن امیدواروں کو میدان میں اتارا جائے اس کیلئے تیاری ابھی سے شروع کردی گئی ہے۔پارٹی مشاہدین کو حلقوں میں سروے کیلئے اتارا جاچکا ہے۔انہوں نے کہاکہ گز شتہ اسمبلی انتخابات کے دوران بھی امیدواروں کو منتخب کرنے سے پہلے تین مرتبہ سروے کیاگیا۔ 2018 کے انتخابات کیلئے پہلے مرحلے کا سروے شروع ہوچکا ہے۔متعلقہ حلقوں میں کونسے پارٹی کارکن عوام سے قریب ہیں ان کا جائزہ لیا جارہا ہے۔عوام میں ان کی مقبولیت کی بنیاد پر امیدواروں کے انتخاب میں ان کے ناموں کو ترجیح دی جائے گی۔پہلے، دوسرے اور تیسرے سروے کی رپورٹوں کے بعد ہی امیدواروں کی فہرست تیار کرکے اعلیٰ کمان کو روانہ کی جائے گی۔ کے پی سی سی صدارت شمالی کرناٹک کے کسی لیڈر کو سونپنے کے متعلق ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر پرمیشور نے کہاکہ وزیر برائے اعلیٰ تعلیمات بسواراج رایا ریڈی نے اپنے علاقہ کے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ وہ خود بھی اس عہدہ کیلئے موزوں امیدوار ہیں،اعلیٰ کمان کی طرف سے اگر فیصلہ کیا جائے تو وہ ان کے حق میں عہدہ چھوڑنے تیار ہیں۔