ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / سیاست دان،علماء اور دانشور متحد ہوکر ملک کی جمہوریت بچائیں، مسلم نوجوان الگ تھلک رہنے کی بجائے برادران وطن سے میل جول بڑھائیں: رحمن خان

سیاست دان،علماء اور دانشور متحد ہوکر ملک کی جمہوریت بچائیں، مسلم نوجوان الگ تھلک رہنے کی بجائے برادران وطن سے میل جول بڑھائیں: رحمن خان

Sun, 07 May 2017 01:01:42    S.O. News Service

بنگلورو:6/مئی(ایس او نیوز) ملک کو درپیش سنگین صورتحال سے نکالنے کیلئے آج مسلمانوں کے سیاسی قائدین، دانشوران اور علماء کو اتحاد اور اتفاق کے ساتھ حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں آج اس ملک کے اقتدار پر قابض ہوچکی ہیں۔ان طاقتوں کا منصوبہ ہے کہ وہ سیاسی غلبہ حاصل کرنے کے بعد ملک کے آئین کو تبدیل کردیں اور ہندوستان میں ہندو مذہب کو مملکتی مذہب قرار دیں۔ اس صورتحال کو روکنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ مسلم طبقے کے ذمہ دار افراد اپنی انا کو قربان کرکے متفکر ہوں، اور ہمارے نوجوان دیگر اقوام سے میل جیل کو بڑھائیں اور انہیں الگ تھلک کرنے کی کوشش نہ کریں۔ یہ بات آج سابق مرکزی وزیر اور رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر کے رحمن خان نے کہی۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ فرقہ پرست طاقتوں کو ملک کا اقتدار راتوں رات نہیں ملا بلکہ 70 سال قبل انہوں نے اس ملک کے آئین کو نامنظور کرنے کے بعد سے ہی منظم طور پر ملک کے اقتدار پر قبضہ کرنے کی جدوجہد شروع کردی، پہلے انہوں نے ملک کے افسر شاہی طبقہ عدلیہ اور میڈیا پر اپنا قبضہ جمایا اور ان تینوں کی مدد سے ملک کے جمہوری نظام پر قابض ہونے کی کوشش میں کامیاب ہوتے جارہے ہیں۔ آر ایس ایس کا مقصدصرف ملک کا اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ ملک کے آئین کو تبدیل کردیں اور ہندوستان کو ہندو راشٹرا قرار دیں جہاں ہندو ازم کو مملکتی مذہب قرار دیا جائے اور دیگر اقوام سے وابستہ شہریوں کو درجہ بندی سے شہریت دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں فرقہ پرست طاقتوں نے جوقوت حاصل کی ہے اس کی وجہ سے سیکولر سیاسی پارٹیوں کا دم اور اثر دن بدن زائل ہوتا جارہا ہے۔ ان حالات میں ملک کے ذمہ دار طبقہ نے اگر اپنا فرض سمجھتے ہوئے جمہوریت اور آئین کو بچانے کی پہل نہیں کی تو آنے والے دن اور بھی دشوار گزار ہوں گے۔ بدقسمتی اس بات کی ہے کہ سماج میں جو طبقہ اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھتا ہے وہ انانیت کا شکار ہوچکا ہے۔ آج قوم وملک کی بقاء کیلئے ذمہ داروں کو چاہئے کہ اپنی انا کو قربان کریں اور قوم کو قربان ہونے سے بچائیں۔ علمائے کرام سے مخاطب ہوکر انہوں نے کہاکہ ملت کی حفاظت کیلئے وہ اپنے اپنے مسلکوں کے دائرہ سے باہر نکلیں اور اتحاد کے ذریعہ ملت کی رہنمائی کریں۔  ملت کو درپیش مسائل کے ساتھ ملکی سطح پر مسلمانوں کو جس طرح نشانہ بنایا جارہاہے اس کے سد باب کیلئے شریعت کی روشنی میں دلائل سے قوم کو آگاہ کرائیں اور ساتھ ہی برادران وطن کو اسلام کے مثبت پیغام سے روشناس کرائیں،تاکہ مذہب اسلام کے متعلق ملک کے عام شہریوں میں جو غلط فہمی پھیلی ہوئی ہے ان کا ازالہ ہوسکے اور آپسی بھائی چارگی اور میل جول کا ماحول بڑھ سکے۔رحمن خان نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ ملک کا مسلم نوجوان طبقہ اپنے آپ کو الگ تھلک محسوس کرنے لگا ہے۔ یہ رجحان خوش آئند نہیں ہے۔تعلیمی اداروں میں اور دیگر مقامات پر مسلم نوجوانوں کو دیگر ہم وطنوں کے ساتھ میل جول بڑھانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے چند برسوں کے دوران مذہب اسلام کو بدنام کرنے کی قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہوئی سازشوں کے حصہ کے طور پر اس مذہب پر دہشت گردی کا لیبل لگادیا گیا۔ باہمی میل جول اور برادران وطن سے خوشگوار تعلقات کے نتیجہ میں اسلام پر لگائے گئے داغ کو مٹایا جاسکتاہے۔ سب جانتے ہیں کہ مذہب اسلام پر دہشت گردی کا یہ الزام بے بنیاد ہے، لیکن اس کی وضاحت کی کوشش مسلمانوں کی طرف سے بھی ہونی چاہئے۔ بدقسمتی سے مسلم اداروں اور انجمنوں یاپھر ذمہ داروں کی طرف سے ان الزامات کے سد باب کی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو ملک کے مسلمانوں کا نمائندہ ادارہ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر رحمن خان نے کہاکہ یہ واحد ادارہ ہے، جس پر ملک کے تمام مسلمان اعتبار کرتے ہیں، مسلکی اختلافات سے بالا تر ہوکر اس ادارہ کے ذریعہ ملت کی رہمنائی کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ مسلم پرسنل لاء بورڈ اپنی قوت کو پہچانے اور صرف پرسنل لاء بورڈ خودکو شرعی امور تک محدود رکھنے کی بجائے ملک کو درپیش سنگین حالات میں ملت کی صحیح رہنمائی کا فریضہ بھی انجام دے۔ انہوں نے کہاکہ آج ملک کے مسلمانوں کیلئے سیاسی قائدین اور علماء کے ساتھ ملک کے ایسے دانشور طبقہ کو بھی فکر مند ہونا چاہئے جو اسلامی تعلیمات اور عصری علوم میں یکساں مہارت رکھتا ہو اور دیگر برادران وطن کے سامنے اسلام کے صحیح پس منظر کو پیش کرنے کی حیثیت کا حامل ہو۔ ملک میں جمہوریت کو لاحق خطرہ کے متعلق انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم مودی کا آمرانہ رویہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ ملک کے دکٹیٹر بننا چاہتے ہیں۔ اگریہ خواب حقیقت میں تبدیل ہوگیا تو ملک کے حالات میں غیر معمولی بگاڑ آسکتاہے۔ اس کو کبھی شرمندہئ تعبیر ہونے نہیں دیا جاناچاہئے۔


Share: