ممبئی ،16/ اکتوبر( ایس او نیوز /ایجنسی) اتوار کو سمردھی ایکسپریس وے پر پیش آئے منی بس اور کنٹینر کی ٹکر میں 12 لوگوں کی موت واقع ہونے کے بعد پولس نے ایک طرف کنٹینر ڈرائیور کے خلاف معاملہ درج کیا ہے، وہیں روڈ ٹرانسپورٹ آفس کے دو اسٹاف کے خلاف بھی معاملہ درج کیا ہے۔ پتہ چلا ہے کہ پولس نے تینوں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ جو منی بس اس حادثے کا شکار ہوئی، وہ ایک کنٹینر کے پیچھے چل رہی تھی، جھمبر گاوں ٹول بوتھ کے قریب آرٹی او کی ایک ٹیم نے کنٹینر کو رُکنے کا اشارہ کیا اور جیسے ہی کنٹینر ڈرائیور نے بریک لگایا، پیچھے سے آنے والی منی بس تیز رفتاری کے ساتھ کنٹینر سے ٹکراگئی۔ حادثہ اتنا شدید تھا کہ منی بس کے پرخچے اُڑ گئے اور بارہ لوگ ایک ہی جھٹکے میں موت کے منہ میں چلے گئے۔
میڈیا میں آئی رپورٹوں کے مطابق متاثرین میں سے ایک سندیش سندیپ اسوالے نے بتایا کہ "آر ٹی او کی گاڑی کنٹینر کا پیچھا کر تی ہوئی ہم سے آگے نکلی تھی۔ اس نے ہماری منی بس کو اوور ٹیک کیا اور ہمارے آگے چلنے والے کنٹینر کو روکنے کا حکم دیا، کنٹینر کے اچانک رُکنے کی وجہ سے ہماری بس کے ڈرائیور کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا جس کی وجہ سے یہ تصادم ہوا۔
وجیا پور کے ایس پی منیش کلوانیہ نے اتوار کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ ٹرک ڈرائیور برجیش کمار چنڈیل اور دو آر ٹی او افسران، جن کی شناخت پردیپ راتھوڑ اور نتن کمار گونارکر کے طور پر کی گئی ہے، کے خلاف پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور دونوں کو پولس تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
701 کلو میٹر طویل ممبئی سے ناگپور کو جوڑنے والا ایکسپریس وے کا افتتاح گذشتہ سال ڈسمبر میں وزیراعظم نریندر مودی کے ہاتھوں ہوا تھا۔بتایا گیا ہے کہ افتتاح کے بعد سے ہی اس ایکسپریس وے پر متعدد سڑک حادثات رونما ہوچکے ہیں۔
کئی خاندانوں پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑاہے: سمر دھی ہائی وے پر ہونے والے حادثات کی وجہ سے ناسک ضلع کے کئی خاندانوں پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔ ناسک ضلع میں بارہ مسافروں اور متعلقہ خاندانوں کے گھروں میں صرف آہ و بکا ہی سنائی دے رہا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی گھر میں چولہا نہیں جلا۔ اورنگ آباد ضلع کے ویجا پور تعلقہ کے جمبر گاؤں ٹول ناکا علاقے میں سمر دھی ہائی وے پر اتوار کی اولین ساعتوں میں پیش آئے منی بس اور کنٹینر کے درمیان خوفناک حادثہ 12 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ 23سے زائد مسافر زخمی ہو گئے۔ مرنے والوں میں سے ایک کا تعلق ویجا پور سے ہے اور باقی گیارہ کا تعلق ناسک سے ہے۔ متعلقہ خاندانوں کو واقعہ کا علم ہوا تو ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس حادثے میں کئی خاندانوں کی زندگیاں برباد ہوگئی ہیں اور نا سک میں کئی خاندانوں پر غم کا پہاڑٹوٹ پڑا ہے۔
دریں اثنا، اس حادثے میں سمتا نگر، را جونگر، گولانے اور نپھاڑ تعلقہ کے ونس گاوں، اوگاو، پمپلگاؤں بسونت کے مہلوکین شامل ہیں۔ سمتا نگر علاقے میں رہنے والے سولسے خاندان کے لکھن سولے اپنی بیوی کا جل، 5 سالہ بیٹی تنوشری اور دو بچوں کے ساتھ بلڈھانہ کے قریب سیلانی با با درگاہ کی زیارت کےلئے گئے تھے۔ درشن سے واپس آنے کے دوران یہ حادثہ پیش آیا جس میں بیوی کا جل اور 5 سالہ بیٹی تنوشری کی موت ہوگئی۔
شہر کے راجو نگر علاقہ کے رہنے والے گنگور دے خاندان بھی حادثہ کا شکار ہو گیا۔ جھمبر کاشی ناتھ گنگور دے، امول جھمبر گنگور دے، ساریکا جھمبر گنگور دے سمیت راجو نگر کا ایک رہائشی پنجابی رمیش جگتاپ بھی مرنے والوں میں شامل ہے۔ اس کے بعد سنگیتا ولاس اسوالے ( وناسگاؤں)، ہوسا بائی آئند شرسات (اوگاؤں) نپھاڑ تعلقہ سے ملند ۔ ہیر امن پگارے ( کو کنا گاؤں )، دیپک پر بھا کر کیکنے (بسونت پمپلگا ؤں) بھی مرنے والوں میں شامل ہیں۔ ناسک شہر کے قریب گولانے سے تعلق رکھنے والی رجنی گوتم چیکھے بھی متوفی میں شامل ہیں۔
مجموعی طور پر ایک خاندان اور دوسرےخاندان کا ایک فرد اس حادثے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔ اس ٹریول بس میں کل 36 مسافر سوار تھے جو بلڈھانہ سے ویجا پور کے راستے روانہ ہوئی تھی۔ یہ بھی ضلع بلڈھانہ میں سیلانی بابا کی درگاہ کی زیارت کے بعد ناسک واپس آرہے تھے۔ ان میں کچھ بچے بھی شامل تھے۔
د