نئی دہلی، 16؍جون (ایس او نیوز؍ایجنسی) وزیر اعظم مودی نے گزشتہ روز مرکزی حکومت کے تمام محکموں اور وزارتوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اگلے ۱۸؍ماہ یعنی ڈیڑھ سال کے اندر ۱۰؍ لاکھ سے زائد ملازمتیں فراہم کریں۔۲۰۲۴ءمیں لوک سبھا انتخابات ہیں اور اس اعلان کو اسی سے جوڑا جارہا ہے لیکن ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے خاتمے کے لئے اگلے ایک سال میں کم از کم ۹ء۵؍ کروڑ لوگوں کو ملازمت مل جانی چاہئے۔ملازمتیں فراہم کرنے کی ہدایت وزیر اعظم کی طرف سے ان کی حکومت کے ۸؍سال مکمل ہونے کے بعد دی گئی ہے جبکہ انہوں نے۲۰۱۴ء کے انتخابات میں وعدہ کیا تھا کہ وہ ہر سال دو کروڑ نوکریاں فراہم کریں گے۔ اس حساب سے تو اب تک ۱۶؍کروڑ لوگوں کو روزگار مل جانا چا ہئے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا ہے بلکہ اس وقت ملک میں بے روزگاری کی سرکاری شرح ۸؍ فیصد پہنچ گئی ہے اور حقیقی شرح کی بات کی جائے تو یہ ۱۸؍ سے ۲۰؍ فیصد کے آس پاس ہے۔
اشوکا یونیورسٹی کے سی ای ڈی اے (سینٹر فار اکنامک ڈیٹا اینڈ اینالیسس) کی رپورٹ کے مطابق ۲۰۱۶ء سے ۲۰۲۰ء کے درمیان کم از کم ایک کروڑ ملازمتیں ختم ہو ئی ہیں جبکہ ۲۰۲۱ء میں مزید ۲۰؍ لاکھ کے قریب ملازمتیں کم ہوئی ہیں۔ ادھر سی ایم آئی ای کی رپورٹ کے مطابق، مئی۲۰۲۱ء میں بے روزگاری کی شرح۱۱ء۸۴؍ فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔موجودہ ۴۲؍ کروڑ افرادی قوت میں سے ۸؍فیصد اس وقت بے روزگار ہیں یعنی۳ء۵؍کروڑ لوگ جو کام کرنے کے قابل ہیں ان کے پاس نوکریاں نہیں ہیں جبکہ ۲ء۵؍ کروڑ لوگوں نے نوکریوں کی تلاش چھوڑ دی ہے۔ وہ چھوٹی موٹی نوکریاں کر رہے ہیں لیکن نوکریاں نہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد خواتین کی ہے ۔
کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے بھی اس تعلق سے مودی سرکار کو نشانہ بنایا اور کہا کہ صرف۱۰ء۵؍ لاکھ نوکریوں کا وعدہ محض انتخابی جملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سروے پر نظر ڈالیں تو یہ تصویر سامنے آئے گی کہ وزیراعظم اچھے دن اور ہر سال ۲؍کروڑ نوکریوں کا وعدہ کرتے ہوئے اقتدار میں آئے لیکن ان سے سال میں ۱۰؍ لاکھ نوکریاں بھی پیدا نہیں ہوئیں۔حقیقت میں دیکھیں تو نوٹ بندی کے دوران، تقریباً ۱۴؍ کروڑ لوگوں کا روزگار ختم ہو گیا، عجلت میں لاگو کئے گئے جی ایس ٹی اور بغیر مشورہ کے نافذ کئے گئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ گزشتہ ۸؍ سال میں ۱۶؍کروڑ نوکریاں دینے کے بجائے اس دوران ۱۴؍کروڑ نوکریاں اور روزگار ختم ہو گئے۔ سرجے والا کے مطابق اب بھی سرکاری محکموں میں ۳۰؍ لاکھ سے زائد عہدے خالی ہیں لیکن مرکزی حکومت نے صرف ۱۰؍ لاکھ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ممکنہ طور پر باقی جگہوں کی نجکاری ہو جائے گی
ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنس کے پروفیسر ارون کمار کا کہنا ہے کہ اگرچہ اعداد و شمار میں بے روزگاری کی شرح ۸؍فیصد ہے لیکن ہمیں ۲۰؍ فیصد سے زیادہ لوگوں کیلئےروزگار کی ضرورت ہے جو کام کرنے کے قابل ہیں کیونکہ بہت سے لوگ اپنی قابلیت سے کم کی نوکری کر رہے ہیں اور ایسے لوگوں کو بھی بے روزگار سمجھا جانا چاہئے۔‘‘ ارون کمار کا کہنا ہے کہ۸ء۴؍ کروڑ لوگوں کو فوری طور پر نوکریاں دی جانی چاہئیں اور پھر ہر سال ایک کروڑ لوگ جاب مارکیٹ میں آتے ہیں، ان کیلئے انتظامات کرنا ہوں گے۔ ہمیں اس حساب سے ہر سال کم از کم ایک کروڑ نوکریاں پیدا کرنی ہوں گی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ۱۰؍لاکھ ملازمتوں سے کچھ نہیں ہونے والا!سی ایم آئی ای کے ایم ڈی مہیش ویاس نے بھی کہا کہ ہندوستان کو فوری طور پر کم از کم ۸۵؍لاکھ ملازمتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس وقت ہماری صلاحیت صرف ۴۰؍لاکھ نوکریوں کی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صورتحال اس سے بھی بدتر ہے جو حکومت دکھا رہی ہے کیونکہ حکومت ان لوگوں کو بھی برسر روزگار قرار دیتی ہے جنہیں ۷؍دن کے ہفتے میں صرف آدھے دن کا کام ملتا ہے۔