بنگلورو:10/اپریل(ایس او نیوز)وزیر اعلیٰ سدرامیا کی قیادت والی حکومت کے دور میں بنگلور میں غیر معمولی ترقیاتی کام انجام دئے گئے ہیں۔ بی بی ایم پی اور بی ڈی اے کی طرف سے متعدد نئے پراجکٹ توقع سے زیادہ آگے بڑھائے گئے ہیں۔وزیر اعلیٰ سدرامیا کی طرف سے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے وقت جن جن پراجکٹوں کو آگے بڑھایا گیاتھا ان تمام کومکمل کیا جارہاہے، ان کیلئے فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہے، یہ بات آج وزیر برائے ترقیات بنگلور کے جے جارج نے کہی۔ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر راجکمار کی سمادھی کے قریب جو انڈر پاس زیر تعمیر ہے اس کیلئے بی بی ایم پی کی طرف سے زمین اکوائر کی گئی، اس زمین کے عوض 68کروڑ روپیوں کا معاوضہ طے ہوا جس میں سے صرف چھ کروڑ روپے ادا کیاگیاہے، باقی رقم جلد ہی ادا کردی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ بی ڈی اے کی طرف سے اپارٹمنٹ اور کیمپے گوڈا لے آؤٹ کی زمینات کی فروخت کیلئے عوام کی طرف سے متوقع ردعمل نہ ملنے کے سبب یہ رقم ادا نہیں ہوپائی ہے، جلد از جلد یہ رقم ادا کردی جائے گی۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی کاموں کیلئے ٹنڈر کا عمل مکمل ہوچکا ہے، بارش کا موسم شروع ہونے سے قبل ہی شہر کی تقریباً تمام سڑکوں پر تار بچھانے کا کام مکمل کرلیا جائے گا۔ شہر کے چالوکیہ سرکل سے ہبال کے اسٹیم مال تک منسوخ شدہ اسٹیل برڈج پراجکٹ کے متعلق کے جے جارج نے کہا کہ اگر یہ پراجکٹ آگے بڑھتا تو ٹریفک کو کافی سہل کیاجاسکتا، لیکن اب اس کی بجائے سڑکوں کو کشادہ کرنے کا کام شروع کیا جائے گا، جن لوگوں کی زمین سڑکوں کوکشادہ کرنے کیلئے اکوائر کی جائیں گی انہیں ٹی ڈی آر کی شکل میں معاوضہ ادا کیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کیلئے شہر کی مختلف اہم سڑکوں کو جوڑنے کیلئے سرنگ تعمیر کرنے کا ایک منصوبہ بھی حکومت کے زیر غور ہے، لیکن عام سڑک کے مقابل سرنگ کی تعمیر پر آنے والا خرچ تین گنا زیادہ ہے، اس خرچ کو کم کرنے کے سلسلے میں بیرون ملکی کمپنیوں سے بات چیت جاری ہے، شہر میں مضافاتی ریل نظام کی شروعات کا تذکرہ کرتے ہوئے جارج نے کہاکہ مئی کے دوران مضافاتی ریل کے پہلے مرحلے پر کام شروع کردیا جائے گا۔ محکمہئ ریلویز نے اس کیلئے 350 کروڑ روپیوں کی مالی امداد دی ہے۔