بنگلورو:21/اپریل(ایس او نیوز) ریاستی بی جے پی میں سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی صدر بی ایس یڈیورپا کے خلاف بغاوت دن بدن شدت اختیارکرتی جارہی ہے۔ یڈیورپا سے ناراض لیڈروں نے راست طور پر اعلیٰ کمان سے رجوع کرکے ان کے خلاف شکایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور اس کیلئے ایک ٹیم دہلی روانہ ہوچکی ہے۔بتایاجاتاہے کہ یڈیورپا کے طریقہئ کار سے ناراض دس سے زائد وزراء واراکین اسمبلی اعلیٰ کمان سے شکایت کیلئے تیار ہیں۔ پیر کے روز منعقدہ بی جے پی کور کمیٹی میٹنگ کے دوران بیشتر پارٹی عہدیداران یڈیورپا کے رویہ سے ناراضگی کے سبب موجود نہیں تھے۔ بتایاجاتا ہے کہ یڈیورپا کی طرف سے ہر دن دئے جارہے الگ الگ بیانات کی وجہ سے ریاست میں پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کی شکایت کے ساتھ یہ لوگ دہلی جارہے ہیں۔ کونسل کے اپوزیشن لیڈر کے ایس ایشورپا کی طرف سے کھلی بیان بازی کے بعد اب اراکین کونسل وی سومنا، بھانو پرکاش، بیون مارد، سابق رکن اسمبلی سوگوڑو شیونا، نیمی نائک، کونسل کے سابق چیف وہپ ڈاکٹر اے ایس شیویوگی اور دیگر نے یڈیورپا کے طریقہئ کار پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے پارٹی کے قومی صدر امیت شا سے اس سلسلے میں ملاقات کیلئے وقت مانگا ہے۔ حالانکہ امیت شا نے یڈیورپا کو طلب کرکے سخت ہدایت دی تھی کہ وہ پارٹی عہدیداروں کی فہرست میں تبدیلیاں کریں، لیکن یڈیورپا نے تبدیلی کرنے سے یہ کہہ کر صاف انکار کردیا کہ جن لوگوں کو تبدیلی کی ضرورت ہے وہ راست طور پر امیت شا سے تبدیلی کروالیں، وہ اپنی فہرست میں تبدیلی کرنے والے نہیں۔ اسی بات پر برہم لیڈروں نے امیت شاسے ملاقا ت کی تیاری کرلی ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ گنڈل پیٹ اور ننجنگڈھ اسمبلی حلقوں کے ضمنی چناؤ کے مرحلے میں بھی یڈیورپا نے انتخابی مہم کے سلسلے میں کسی لیڈر کو اعتماد میں نہیں لیا اور تنہا ہی انتخابی مہم چلانے کیلئے نکل پڑے، یڈیورپا کا اگر یہی رویہ برقرار رہاتو آنے والے دنوں میں پارٹی کا برسر اقتدار آنا ناممکن ہوجائے گا۔اسی لئے اعلیٰ کمان فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے یڈیورپا کی اس من مانی پر لگام کسے۔ پارٹی کے ایک طبقے کا یہ بھی ماننا ہے کہ رکن پارلیمان شوبھا کارند لاجے کی طرف سے غیر ضروری مداخلت کے سبب ایک بار پھر یڈیورپا کی شبیہہ داغدار ہورہی ہے۔ اعلیٰ کمان یہ ہدایت دے کہ پارٹی امور میں شوبھا کی بیجا مداخلت کے سلسلے کو ختم کیاجائے۔ بصورت دیگر ریاست میں پارٹی کو اقتدار پرلانے اعلیٰ کمان کا منصوبہ کامیاب نہیں ہوپائے گا۔