ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / رسم و رواج اور مذہبی روایات آئین کے اصولوں کے موافق ہونا چاہئے: عدلیہ 

رسم و رواج اور مذہبی روایات آئین کے اصولوں کے موافق ہونا چاہئے: عدلیہ 

Wed, 25 Jul 2018 00:09:45    S.O. News Service

نئی دہلی:24/جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیاسپریم کورٹ نے آج کہا کہ مشہور سبری ملا مندر میں 10۔50 سال عمر کی خواتین کا داخلہ ممنوع کرنے جیسے رسم و رواج یا مذہبی رسومات کو آئین کے اصولوں کے مطابق ہونا ضروری ہے۔چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والے پانچ رکنی آئین بنچ نے آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کو صرف عوامی صحت، عوامی نظم اور اخلاقیات کی بنیاد پر روکا جا سکتا ہے۔ آئینی بنچ کے دیگر ارکان میں جسٹس آر ایف نرمن، جسٹس اے ایم کھانولکر، جسٹس دھننجے وائی چندرچوڑ بھی شامل ہیں ۔ بنچ نے تبصرہ کیا کہ 1950 میں آئین نافذ ہونے کے بعد تمام کچھ آئین کے دائرے میں ہے۔ عدالت نے یہ تبصرہ اس وقت کیا ہے جب 800 سالہ ایپا مندر کے انتظام و انصرام کی نگرانی کرنے والے بورڈکی جانب سے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا کہ عدالت کو یہ تحقیق کرنا ہوگا کہ کیا یہ رواج آستھا کی بنیاد ہے جو ایک کمیونٹی میں صدیوں سے چلی آ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم طبقہ کی عبادت گاہ میں خواتین کوآنے کی اجازت نہیں ہے اور ’آستھا‘ کی بنیاد پر ان روایات کے پرکھنے سے مسائل کا پٹارا کھل جائے گا۔بنچ نے سنگھوی سے کہا کہ بورڈ کو یہ طے کرنا ہوگا کہ ایک خاص عمر کی خواتین کے داخلہ کی ممانعت مذہبی طور پر ضروری اور لازمی ہے۔بنچ نے کیرالہ ہائی کورٹ میں بورڈ کے بیان میں تضاد کی طرف توجہ کیا اور کہا کہ یہ قابل قبول صورت تھی کہ یاتر اشروع ہونے سے پانچ دن قبل سبری ملا مندر میں تمام عمر کی عورتوں کو رسائی کی اجازت ہوتی تھی اور اس کے بعد ہجوم بڑھنے کی وجہ سے ان کی رسائی پر پابندی عائد کی گئی تھی ۔ اس سے پہلے19 جولائی کو سماعت کے دوران عدالت عظمی نے کیرالہ کے اس قدیم تاریخی مندر میں 10۔50 عمر کی خواتین کا داخلہ ممنوع کرنے کے جواز پر سوال اٹھایا تھا۔ 


Share: