نئی دہلی:10/اپریل (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )راجیہ سبھا میں پیر کو مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر کو نہ صرف چیئرمین حامد انصاری کی ڈانٹ کا سامنا کرنا پڑا، بلکہ اپنی سیٹ پر کھڑے ہو کر راجیہ سبھا کے تمام اراکین سے معافی بھی مانگنی پڑی۔وجہ یہ تھی کہ وہ وقفہ سوال کے دوران ایوان میں تاخیر سے پہنچے۔دراصل، وقفہ سوال میں سوال اٹھا کہ دہلی میں صوتی اور فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے، کیونکہ حالات خطرناک حد تک آگے بڑھ چکی ہے۔یہ سوال وزارت ماحولیات سے منسلک تھا اور جواب وزیر ماحولیات انیل مادھو دوے کو دینا تھا۔کانگریس لیڈر مہندر سنگھ ماہارا نے جب یہ سوال پوچھا،تو جواب دینے کے لیے کوئی بھی وزیرایوان میں موجود نہیں تھا، اس کو لے کر اپوزیشن ارکان نے ہنگامہ مچانا شروع کر دیا۔کانگریس لیڈروں نے کہا کہ ایسا ایوان میں دوسری بار ہوا ہے، جب سوال پوچھا گیا ہو، لیکن وقفہ سوال ہونے کے باوجود جواب دینے کے لیے کوئی وزیر موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔تبھی دوڑتے بھاگتے پرکاش جاوڈیکر راجیہ سبھا پہنچے اور انہوں نے کہا کہ آلودگی پر پوچھے گئے سوال کا جواب انل مادھو دوے کی جگہ وہ دیں گے۔جاوڈیکر نے صفائی دی کہ لوک سبھا میں پھنسے ہونے کی وجہ سے انہیں یہاں پہنچنے میں تاخیر ہو گئی،لیکن اس سے چیئر مین حامد انصاری کی ناراضگی کم نہیں ہوئی۔انہوں نے پھر دہرایاکہ یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے اور یہ بہت ہی نایاب صورت حال ہے کہ جب وقفہ سوال کے دوران سوال پوچھے جانے پر بھی جواب دینے کے لیے وزیر موجود نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10سالوں میں انہوں نے ایسی صورت حال کبھی نہیں دیکھی۔ان کا اتنا کہنا تھا کہ کانگریس کے لیڈر ’شرم کرو، شرم کرو‘کے نعرے لگانے لگے۔اس کے بعد پرکاش جاوڈیکر نے کھڑے ہو کر دیر سے ایوان پہنچنے کے لیے ارکان سے معافی مانگی اور کہا کہ آگے وہ دھیان رکھیں گے کہ ایسا نہ ہو۔ سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ بات صحیح ہے کہ دہلی میں آلودگی خطرناک سطح تک پہنچ چکی ہے، لیکن اس پر قابو پانے کے لیے حکومت نے جو قدم اٹھایا ہے، اس کا اثر نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔