ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دہلی ایکسائز پالیسی کیس: ای ڈی نے اروند کیجریوال کوبھیجا آٹھواں سمن4 مارچ کوپیش ہونے کی دی ہدایت؛ کیا ہے پورا معاملہ ؟

دہلی ایکسائز پالیسی کیس: ای ڈی نے اروند کیجریوال کوبھیجا آٹھواں سمن4 مارچ کوپیش ہونے کی دی ہدایت؛ کیا ہے پورا معاملہ ؟

Tue, 27 Feb 2024 18:56:21    S.O. News Service

نئی دہلی 27 فروری (ایس او نیوز/ایجنسی)دہلی میں مبینہ شراب پالیسی معاملے میں منی لانڈرنگ کی جانچ کر رہی ایجنسی  ای ڈی نے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو آٹھواں سمن بھیجتے ہوئے انہیں 4 مارچ کو تفتیش کے لیے حاضر ہونے کی ہدایت دی ہے۔ ای ڈی اس سے قبل کیجریوال کو 7 سمن بھیج چکی ہے لیکن وہ کسی بھی سمن پر ایجنسی کے سامنے پیش نہیں ہوئے اور سمن کو غیر قانونی قرار دیا۔

وزیر اعلیٰ کیجریوال پر دہلی کی ایکسائز پالیسی میں بدعنوانی کے الزامات ہیں۔ سی بی آئی اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے جبکہ اسی کے ساتھ ای ڈی بھی منی لانڈرنگ کی جانچ کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ مرکزی ایجنسیوں نے اس معاملے میں اب تک عام آدمی پارٹی کے دو بڑے لیڈر منیش سسودیا اور سنجے سنگھ کو گرفتار کرچکی ہے اور دونوں جیل میں بند ہیں۔

اس سے قبل 22 فروری کو ای ڈی نے کیجریوال کو 7 واں سمن بھیجتے ہوئے 26 فروری کو تفتیش کے لیے حاضر ہونے کے لئے کہا تھا لیکن کیجریوال اُن کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ عام آدمی پارٹی نے اس وقت کہا تھا کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے اور اس کی سماعت 16 مارچ کو ہے، لہذا ای ڈ ی کو روزانہ سمن بھیجنے کے بجائے عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ دہلی حکومت نے 17 نومبر 2020 کو نئی شراب پالیسی نافذ کی تھی۔ 22 جولائی 2022 کو گورنر وی کے سکسینہ نے ضابطوں کی مبینہ خلاف ورزیوں اور ایکسائز پالیسی میں خامیوں کی شکایت پر سی بی آئی انکوائری کی سفارش کی تھی۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق دہلی کے چیف سکریٹری کی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ شراب کے لائسنس ہولڈرس کو غلط فائدہ پہنچانے کے لیے شراب پالیسی کے قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ تنازعہ بڑھنے کے بعد 28 جولائی 2022 کو ایکسائز کے وزیر منیش سسودیا نے محکمہ کو پرانی ایکسائز پالیسی کو لاگو کرنے کا حکم دیا تھا۔ اگست 2022 کو سی بی آئی نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی۔ اس معاملے میں ای ڈی کی انٹری 22 اگست 2022 کو ہوئی تھی۔ 26 فروری کو سی بی آئی نے منیش سسودیا کو اور 4 اکتوبر کو سنجے سنگھ کو گرفتارکیا تھا۔

وزیر اعلیٰ کیجریوال کو ای ڈ ی نے پہلے 2 نومبر کو بلایا، پھر21 دسمبر، 3 جنوری اور چوتھی بارانہیں 17 جنوری کو بلایا گیا۔ پانچویں بار 2 فروری کو  چھٹی مرتبہ 19 فروری کو، ساتویں بار26 فروری کو اور اب آٹھویں مرتبہ انہیں 4 مارچ کو تفتیش کے لیے بلایا ہے۔

خیال رہے کہ بی جے پی کی مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے دہلی کے وزیراعلی ٰ ارون کجریوال کئی بار کہہ چکے ہیں کہ  ملک کی کسی بھی ریاست میں بی جے پی کے علاوہ کسی اور پارٹی کی حکومت بنتی ہے تو وہ اس حکومت کو کام کرنے نہیں دیتے ہیں۔ کجریوال نے ایک موقع پر کہا تھا کہ  ملک کے وزیر اعظم نے یہ ٹھان لیا ہے کہ اگر وہ بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتے اور کسی دوسری پارٹی کی حکومت بناتے ہیں تو وہ کسی بھی حالت میں اس حکومت کو چلنے نہیں دیں گے۔ وزیر اعظم ایک کام یہ بھی کرتے ہیں کہ اگر بی جے پی کے علاوہ کسی اور کی حکومت بنتی ہے تو وہ ای ڈی-سی بی آئی کو ان کے سارے لیڈروں پر چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ انہیں گرفتار کرلیتے ہیں، مختلف طریقوں سے ان پر تشدد کرتے ہیں، انہیں ہراساں کرتے ہیں اور ان کی پارٹی کو توڑ کر حکومت گرا دیتے ہیں۔

کجریوال کا کہنا تھا کہ “وزیر اعظم سی بی آئی -ای ڈی کو چھوڑ کر لیڈروں کو ڈراتے ہیں اور اگر وہ لیڈر بی جے پی میں شامل ہو جاتے ہیں تو ان کے تمام کیس بند ہو جاتے ہیں۔ ہیمنت بسوا شرما پر پہلے سی بی آئی اور ای ڈی کے کئی کیس تھے۔ وہ شاردا اسکینڈل میں پھنسے تھے  لیکن  بی جے پی میں شامل ہوتے ہی ان کے تمام معاملات ختم ہوگئے تھے۔ ہیمنت بسوا شرما پہلے یا تو بے قصور تھے، یا وہ مجرم تھے، لیکن جب وہ بی جے پی میں شامل ہوئے تو ان کے سارے کیس ختم ہوگئے۔ اسی طرح کا معاملہ شوبھیندو ادھیکاری، مکل رائے اور نارائن رانے کا ہے۔ ادھو ٹھاکرے کی پارٹی سے کئی ایم ایل ایز کو توڑ ا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ ان میں سے کئی ایم ایل اے سی بی آئی اور ای ڈی کے مقدمات کا سامنا کر رہے تھے۔ جیسے ہی ان  ارکان اسمبلی  نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی، ان کے تمام معاملات کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔ اسی لیےسی بی آئی -ای ڈی کا استعمال بدعنوانی کے خلاف نہیں، بلکہ منتخب حکومتوں کو گرانے اور اپوزیشن جماعتوں کو توڑنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق منیش سسودیا اور ستیندر جین کو دہلی کے اندر گرفتار کر لیا گیا۔ شروع میں انہوں نے بہت سے لوگوں کو منیش سسودیا اور ستیندر جین کے پاس بھیجا اور انہیں بی جے پی میں شامل ہونے کی پیشکش کی۔ کجریوال کے مطابق  “سی بی آئی -ای ڈی کے علاوہ گورنر کا استعمال  بھی بی جے پی اپنے فائدے کے لئے  کرتی ہے۔ تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن سے بات کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ اسمبلی سے 20 سے زیادہ بل پاس ہوچکے ہیں، لیکن گورنر ان پر دستخط نہیں کررہے ہیں۔ اسی طرح تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے۔ چندر شیکھر راؤ نے  سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ دائر کیا ہے کہ گورنر ان کے بہت سارے بل لے کر بیٹھے ہیں اور ان پر دستخط نہیں کررہے ہیں۔


Share: