نئی دہلی:30/جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)حکومت مسلح افواج کی جدید کاری کے لئے اقدامات کررہی ہے۔یہ کام نئے سازوسامان کی خریداری اور موجودہ سازو سامان اور سیکورٹی نظامات سمیت دیگر نظامات کی اپگریڈنگ کے ذریعے کیا جارہا ہے،تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ مسلح افواج سیکورٹی خطرات کے جملہ پہلوؤں سے نبرد آزما ہونے کے لئے ہر طرح سے لیس ہوں۔جدید کاری سے متعلق پروجیکٹوں کومنظور شدہ سرمایہ جاتی تحویل منصوبوں اور دفاعی خرید طریقہ کار (ڈی پی پی) کے مطابق آگے بڑھایا جاتا ہے۔حکومت ایسے اقدامات کررہی ہے جن سے دفاعی شعبے میں جدید کاری اور خود کفالتی کے اعلیٰ سطحوں کو حاصل کیا جاسکے۔اس کے لئے ملک کی سرکاری اور نجی شعبے کی صنعتوں کی استعداد میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ان اقدامات میں ہندوستانی وینڈروں سے خریداری کو ترجیح دینا اور لائسنسنگ نظام کی نرم کاری شامل ہیں۔ڈی پی پی ہندوستان میں ہی ڈیزائن کئے گئے ، فروخت کئے گئے اور تیار کئے گئے سازو سامان (آئی ڈی ڈی ایم)کو اعلیٰ ترین ترجیح دیتا ہے۔میک پروسیڈیورکو آسان بنایا گیا ہے۔ صنعتوں کے ذریعے مالی امداد یافتہ ترقیاتی پروجیکٹو کے لئے سہل کردہ میک-2 پروسیڈیور کا اعلان کیا گیا ہے۔حکومت نے دفاعی شعبے میں اسٹریٹیجک شراکت داری کی پالیسی کا اعلان بھی کیا ، تاکہ بڑے دفاعی پلیٹ فارموں اور سازوسامان کی مینوفیکچرنگ کے کام میں نجی شعبے کی وسیع تر شراکت داری کی حوصلہ افزائی کی جاسکے ۔یہ اطلاع دفاع کے وزیر مملکت ڈاکٹر سبھاش بھامرے نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔