ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دس منٹ کی اذان سے اگر صوتی آلودگی ہوتی ہے تو کیا میوزک اور بھجن سے نہیں ہوتی؟ گجرات ہائی کورٹ نے اذان مخالف عرضی کو کیا خارج

دس منٹ کی اذان سے اگر صوتی آلودگی ہوتی ہے تو کیا میوزک اور بھجن سے نہیں ہوتی؟ گجرات ہائی کورٹ نے اذان مخالف عرضی کو کیا خارج

Thu, 30 Nov 2023 00:10:27    S.O. News Service

احمد آباد ۲۹ نومبر (ایس او نیوز) ایسے لاؤڈ اسپیکروں پر پابندی لگانے کی درخواست کرنے والی مفاد عامہ کی عرضی (PIL) کو گجرات ہائی کورٹ نے مسترد کرتے ہوئے منگل کو کہا کہ دن میں پانچ بار اذان کے لیے مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال صوتی آلودگی پیدا نہیں کرتا ہے۔

بجرنگ دل لیڈر شکتی سنگھ زالا کی طرف سے مفاد عامہ کی تحت عرضی داخل کی گئی تھی جس میں اذان کیلئے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ بجرنگ دل کے عرضی گزار نے دعویٰ کیا تھا کہ لاؤڈ اسپیکر پر ہونے والی اذان کی وجہ سے صوتی آلودگی ہوتی ہے جولوگوں کی خاص طور پر بچوں کی صحت کو متاثر کرتی ہے اور تکلیف کا باعث بنتی ہے۔چیف جسٹس سنیتا اگروال اور جسٹس انیرودھ پی مئے کی ڈویژن بنچ نے عرضی گزار سے پوچھا کہ اگر اذان صوتی آلودگی کی وجہ ہے تو کیا صبح ۳؍ بجے سے ڈھول اور موسیقی سے شروع ہونے والی آرتی کی آواز سے آلودگی نہیں پھیلتی کیا وہ صرف مندر کے احاطے تک محدود رہتی ہے؟‘ بنچ نے یہ بھی جاننا چاہا کہ کس بنیاد پر درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ اذان  صوتی آلودگی کی وجہ ہے۔

عدالت نے نشاندہی کی کہ دن کے مختلف اوقات میں اذان کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ دس منٹ تک ہوتا ہے۔ ہم یہ سمجھنے میں ناکام ہیں کہ صبح کے وقت لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان دینے والی انسانی آواز کس طرح صوتی آلودگی پیدا کرنے کی سطح تک جاتی ہے، جس سے عوام کی صحت کو بڑے پیمانے پر خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

گجرات ہائی کورٹ نے اس بات پر زور دیا کہ ’’ہم اس قسم کی پی آئی ایل پر غور نہیں کریں گے۔ یہ ایک عقیدہ اور عمل ہے جو برسوں سے چل رہا ہے، اور یہ صرف ۵؍ سے ۱۰؍ منٹ کیلئے ہے۔ آپ کے مندر میں، صبح کی آرتی صبح ۳؍ بجے سے ڈھول اور موسیقی کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔ کیا اس سے کسی قسم کا شور نہیں ہوتا؟ کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ گھنٹہ (گھنٹی) اور گھڑیال (گھونگ) کا شور صرف مندر کے احاطے میں رہتا ہے اور مندر کے باہر نہیں سنائی دیتا؟

ہائی کورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ درخواست میں دعووں کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔عدالت نے مزید کہا کہ صوتی آلودگی کی پیمائش کیلئے ایک سائنسی طریقہ موجود ہے، لیکن پٹیشن میں کوئی ڈیٹا فراہم نہیں کیا گیا جس سے یہ ظاہر ہو کہ دس منٹ کی اذان سے صوتی آلودگی ہوتی ہے۔عدالت نے کہا کہ ’’لہٰذا  ہمیں اس پی آئی ایل پر غور کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ملتی اس لئے اسے خارج کیا جاتا ہے۔‘‘


Share: