بھٹکل 18 اگست (ایس او نیوز)بھٹکل میں خُلع کے بڑھتے واقعات کی روک تھام کے تعلق سے مناسب اقدامات کرنے بھٹکل مسلم خلیج کونسل / رابطہ سوسائٹی کی طرف سے رابطہ کے قاضیا محمد حسن ہال میں عمائدین قوم کی ایک اہم نشست منعقد کی گئی جس میں ذمہ داران نے خُلع کو لے کر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی روک تھام کے لئے فوری طور پر اقدامات کرنا ضروری قرار دیا۔
خُلع یعنی عورت کی طرف سے اپنے شوہر سے علیحدگی، کے معاملات میں اضافہ پر سخت تشویش کا اظہارکرتے ہوئے بھٹکل کی دونوں جماعتوں کے قاضی صاحبان نے بھٹکل میں ہونے والے خلع اور طلاق کی شرح کی تفصیلات کے ساتھ اپنے اپنے طور پر مفید مشوروں سے بھی نوازا، اسی طرح نشست میں موجود بہت سارے ذمہ داران نے بھی اپنی اپنی رائے اور مشورے پیش کئے۔ کسی نے کہا کہ جب تک لوگوں میں تقویٰ یعنی اللہ کا ڈر نہ ہوگا، اس پر قابو پانا ممکن نہیں ہوگا۔ اس نے بتایا کہ ہمارے پاس دینی اور عصری تعلیمی ادارے ہیں، نوجوان نسل اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے باہر نکل رہے ہیں، ہمارے ہاں عالم ، حافظ اور شبینہ مکاتب کی بھی کمی نہیں ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہمارے نظام تعلیم میں کچھ کمی ہے، ہم نئی نسل کو صرف نماز، روزہ اور دعائیں وغیرہ کی تعلیم دیتے ہیں، اس نے رائے پیش کی کہ ابتدائی تعلیم سے لے کر بارہویں یا ڈگری تک بچوں کو تفصیلی سیرت کا مطالعہ کرانا چاہئے، اس کے مطابق مرد اور عورت دونوں کو شادی کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی اُن کو دین کی صحیح سمجھ ہونی چاہئے۔ ایک کلاس ایسی ہونی چاہئے جس میں قران کے ساتھ قران کا ترجمہ اور کم ازکم مختصر تفسیر اُن کے زیرمطالعہ رہے، اسی سے تقویٰ پیدا ہوگا اور اللہ کا ڈر اور حضور ﷺ کی سیرت سےہمارے نوجوان اگر متعارف ہوں گے تو خُلع کے ساتھ ساتھ دیگر سماجی برائیوں سے بھی ہماری سوسائٹی دور ہوسکتی ہے۔
اس موقع پر ایسا مشورہ بھی سامنے آیا کہ چونکہ بھٹکل کے اکثر لوگ خلیجی ممالک میں برسرروزگار ہیں، گلف کی جماعتوں کو چاہئےکہ وہ نوجوانوں کو شادی کے لئے اپنے وطن جانے سے پہلے اُن کی کاونسیلنگ کرنے کا نظم کرے، جماعتوں میں ایسی بھی ایک کمیٹی ہو، جو شادی کے لئے وطن لوٹنے والوں کی کاونسیلنگ کرسکے، بھٹکل میں بھی شادی سے پہلے ہی لڑکیوں کی کاونسیلنگ کا انتظام ہو۔ کسی نے یہ بھی مشورہ دیا کہ جب لڑکا اور لڑکے کی کاونسیلنگ نہیں ہوتی، اُس وقت تک اُن کا نکاح نہیں پڑھانا چاہئے، کسی نے کہا کہ جب تک نوجوانوں کو یہ معلوم نہ ہوگا کہ شادی ایک عبادت ہے اور شوہرکا بیوی اور بچوں پر خرچ کرنا ثواب ہے، اسی طرح بیوی کا شوہرکی فرمانبرداری کرنا اور بچوں کی صحیح پرورش کرنا ثواب میں گنا جاتا ہے، وہ شادی کے حقیقی مقصد کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔

نشست کا آغاز مولوی ابرار موٹیا کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، گلف کونسل کے سکریٹری جنرل عتیق الرحمن مُنیری نے استقبالیہ پیش کرتے ہوئے پروگرام کی نظامت کی، انہوں نے بتایا کہ اس نشست میں خُلع کے بڑھتے واقعات کے سدباب پر ہی گفتگو ہوگی۔ صدارت رابطہ سوسائٹی کے صدرعمر فاروق مصباح نے کی۔جماعت المسلمین قاضی مولانا عبدالرب خطیب ندوی اور مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین کے قاضی مولانا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی سمیت دونوں جماعتوں کے نائب قاضی صاحبان نے بھی اپنے اپنے تاثرات پیش کئے۔ کینرا مسلم خلیج کونسل کے صدر محمد یونس قاضیا، سابق صدر عبدالقادر باشہ رکن الدین، رابطہ کے سابق سکریٹری جنرل ایس جے سید ہاشم، دیگر ذمہ داران محتشم جان عبدالرحمن، محتشم عبدالباری، مولوی عبدالمتین منیری، مولانا الیاس جاکٹی ندوی،عبدالسلام دامدا ابو، محمد سمیر کوکاری، عُبیداللہ عسکری، مولوی عبدالعلیم قاسمی، مولانا مقبول کوبٹے ندوی ، عنایت اللہ شاہ بندری، محمد صادق پلور و دیگر کئی اہم ذمہ داران موجود تھے۔ مولوی عبدالنور فکردے ندوی کی دُعا پر جلسہ اختتام کو پہنچا۔