بنگلورو،27؍اکتوبر(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) صدر جمہوریہ رامناتھ کووند نے ودھان سودھا کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کے سلسلے میں منعقدہ خصوصی لیجسلیچر اجلاس سے جو خطاب کیاتھا وہ ریاستی یا مرکزی حکومت سے ترتیب نہیں دیاگیا بلکہ یہ صدر جمہوریہ کے اپنے خیالات تھے۔ ریاستی بی جے پی نے صدر جمہوریہ کے خطبہ میں حضرت ٹیپو سلطان شہید کے تذکرہ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایاتھاکہ وزیراعلیٰ سدرامیا کی ایما پر ریاستی حکومت نے صدر جمہوریہ کے خطبہ میں ٹیپو سلطان کی توصیف پر مشتمل عبارت شامل کروائی تھی، تاہم اس سلسلے میں حقائق سامنے آئے ہیں کہ صدر جمہوریہ کو لیجسلیچر سے خطاب کرنے کیلئے ریاستی حکومت کی طرف سے جو نوٹ روانہ کیاگیاتھا اس میں حضرت ٹیپو سلطان شہید کا تذکرہ ہی نہیں تھا۔ ریاستی حکومت کی طرف سے صدر جمہوریہ کو روانہ کردہ نوٹ میں سے کئی نکات کو صدر جمہوریہ نے نظر انداز کردیا اور ایوان میں انہوں نے اپنے ہی دفتر سے تیار شدہ خطبہ پیش کیا۔ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ریاستی لیجسلیچر سے اپنے خطاب میں ٹیپو سلطان کے تذکرہ کو صدر جمہوریہ نے بذات خود شامل کیا تھا۔ جیسے ہی صدر جمہوریہ کی طرف سے اپنے خطبہ میں ٹیپو سلطان کے تذکرہ کو بذات خود شامل کئے جانے کی بات سامنے آئی ہے ریاستی بی جے پی نے ان خبروں کو مشکوک قرار دینا شروع کردیاہے، جبکہ راشٹرپتی بھون سے بھی یہ وضاحت آچکی ہے کہ ریاستی لیجسلیچر سے صدر ہند کے خطاب میں ریاستی حکومت کی طرف سے کوئی نکتہ شامل نہیں کیا گیا۔دفتر صدر ہند نے ہی یہ تقریر مرتب کی تھی۔ بتایاجاتا ہے کہ صدر جمہوریہ کو خطاب کیلئے چند ضروری نوٹس ریاستی اسپیکر کے بی کولیواڈ اور کونسل چیرمین ڈی ایچ شنکر مورتی کے دفتر سے 20 ؍اکتوبر کو بذریعہ ای میل روانہ کئے گئے تھے، لیکن ان نوٹس میں بھی ٹیپو سلطان کا دور دور تک تذکرہ نہیں تھا۔ اسمبلی اسپیکر نے بذات خود یہ واضح کیا کہ ریاستی حکومت اور سکریٹریٹ کی طرف سے جو نوٹ صدر جمہوریہ کو روانہ کیاگیاتھا اس میں کوئی متنازعہ نکتہ شامل نہیں تھا۔ لیکن جیسے ہی صدر جمہوریہ نے اپنے خطاب میں ریاست کے دیگر حکمرانوں کے ساتھ ٹیپو سلطان کا بھی نام لیا ۔ بی جے پی اراکین کے ہوش باختہ ہوگئے اور اس کے فوراً بعد وطن کیلئے ٹیپو سلطان کی قربانی ، ملک کے دفاع کیلئے راکٹ ٹیکنالوجی کی ایجاد اور اس ٹیکنالوجی کو آزادی کے بعد فیلڈ مارشل کے ایم کریپا کی طرف سے اپنائے جانے کا تذکرہ صدر ہند کی طرف سے ہوا تو ٹیپو سلطان کی مخالفت پر آمادہ بی جے پی کی ہوا نکل گئی۔ جبکہ صدر ہند کے خطبہ سے حکمران کانگریس کے حوصلے ایورسٹ کی اونچائیوں کو چھونے لگے اور اب ریاستی حکومت نے پورے جوش وخروش کے ساتھ ٹیپو سلطان جینتی منانے کا اعلان کیا ہے۔