نئی دہلی، 25/ستمبر (ایس او نیوز/ایجنسی) بیرون ِملک سرگرم خالصتان حامی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں شدت پیدا کرتے ہوئے حکومت نے جانچ ایجنسیوں کو ہندوستان میں ان کی املاک کی شناخت کرنے کی ہدایت دی ہے۔اس کے ساتھ ہی ایسے عناصر کے ’اووَسیز سٹیزن آف انڈیا‘ (بیرونِ ملک ہندوستانی شہری) جسے عرف عام میں ’او آئی سی ‘اسٹیٹس کہا جاتا ہے، کو بھی ختم کرنے کی بھی تیاری کی جارہی ہے۔
کنیڈا میں مقیم خالصتانی دہشت گرد گُرپَتونت سنگھ پنّوکی پنجاب میں واقع املاک کے خلاف این آئی اے کی سنیچر کی کارروائی کے بعد حکومت ہند نے جانچ ایجنسیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ خالصتانی تحریک سے وابستہ دیگر نامزد دہشت گردوں کی املاک کی بھی شناخت کریں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بیرون ملک آباد ہیں اور وہیں سے اپنی سرگرمیاں چلا رہے ہیں ۔خالصتان حامی عناصر کے خلاف حکومت کے اقدام میں شدت ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے تعلق سے کنیڈا کی ہندوستان پر الزام تراشی کے بعد آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق جانچ ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ امریکہ، برطانیہ، کنیڈا اور آسٹریلیا میں مقیم نامزد خالصتانی دہشت گردوں کی شناخت کریں تاکہ ان کے ’او آئی سی ‘اسٹیٹس کو ختم کیا جائے اور وہ ہندوستان میں داخل نہ ہوسکیں ۔ حکومت نے یہ فیصلہ چندی گڑھ اور امرتسر میں این آئی اے کی کارروائی اور پنّو کی املاک قرق کئے جانے کے بعد آگے کی حکمت عملی کے طور پر کیا ہے۔ بتایا جارہاہے کہ اس کے ذریعہ حکومت ہندوستان سے ان کی فنڈنگ روکنے اور ملک میں ان کے داخلے پر قدغن لگانے کیلئے کررہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اب تک امریکہ ، کنیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا، دبئی، پاکستان اور دیگر ممالک میں آباد ۱۹؍ مفرور نامزد خالصتانی دہشت گردوں کی شناخت کرچکی ہے۔ان میں پرم جیت سنگھ پمّا(برطانیہ)، وادھوا سنگھ ببر عرف چاچا(پاکستان)، کُلو َنت سنگھ متھڈا(امریکہ)، جے ایس دھالیوال(امریکہ) ، سکھ پاک سنگھ (برطانیہ) اور دیگر شامل ہیں ۔ انہیں یو اے پی اے کے تحت دہشت گرد نامزد کیاگیاہے۔ حکومت اسی قانون کے سیکشن ۳۳(۵) کی رو سے ہندوستان میں ان کی املاک کو قرق کرلے گی۔