نئی دہلی،23/ستمبر (ایس او نیوز/ایجنسی) خاتون ریزرویشن بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظور کیا جا چکا ہے اور اس پر صدر کے دستخط کے بعد یہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا- تاہم اس کے نفاذ کے لیے جو شرط عائد کی گئی ہیں ان پر کانگریس پارٹی نے اعتراض ظاہر کیا ہے- کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومت کو خاتون ریزرویشن کے نفاذ میں عائد مردم شماری اور حدبندی کی شرط کو ہٹا دینا چاہئے اور خواتین کو فوری طور پر ریزرویشن فراہم کرنا چاہئے-
کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ خاتون ریزرویشن کی دو شرائط ہیں،پہلی کہ مردم شماری کرائی جائے اور دوسری حدبندی کرنی پڑے گی اور ان دونوں کاموں میں کئی سال لگیں گے-راہل گاندھی نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ خاتون ریزرویشن بل کو آج بھی نافذ کیا جا سکتا ہے- لوک سبھا اور اسمبلی میں جو بھی سیٹیں ہیں ان کا 33فیصد خواتین کو دیا جا سکتا ہے اور یہ کوئی مشکل اور پیچیدہ بات نہیں ہے- لیکن حکومت وہ نہیں کرنا چاہتی- حقیقت یہ ہے کہ خاتون ریزرویشن بل آج سے10سال بعد ہی نافذ کیا جائے گا اور یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ نافذ ہوگا بھی یا نہیں!انہوں نے مزید کہا کہ یہ حکومت کا حربہ ہے اور لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے یہ سب کیا جا رہا ہے- یہ سب او بی سی کی مردم شماری سے توجہ ہٹانے کے لئے کیا جا رہا ہے-
دوسری جانب کانگریس نے جمعہ کو الزام لگایا کہ2024کے لوک سبھا انتخابات سے خواتین کے ریزرویشن بل کو لاگو کرنے اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی)کے لیے علیحدہ کوٹہ مقرر کرنے سے متعلق ترامیم کو مسترد کرنے سے بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)کے اصل ارادے بے نقاب ہو رہے ہیں -پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے موقف سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ خواتین ریزرویشن بل لانے کی ساری مشق محض انتخابی مسئلہ بنانے کے لیے تھی-راجیہ سبھانے لوک سبھا اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین کو ایک تہائی ریزرویشن فراہم کرنے کے لیے آئین(ایک سو اٹھائیسویں ترمیم)بل،2023 کو منظوری دے دی- ایوان میں موجود تمام214ارکان پارلیمنٹ نے اس کے حق میں ووٹ دیا- اس کے ساتھ ہی اس بل کو پارلیمنٹ کی منظوری مل گئی- لوک سبھا نے بدھ کو ہی اسے پاس کیا تھا-
جے رام رمیش نے ایکس پر پوسٹ میں لکھا:کانگریس پارٹی نے کل رات راجیہ سبھا میں خاتون ریزرویشن بل میں ترمیم کی تجویز پیش کی- ان ترامیم سے یہ یقینی ہوتا کہ خواتین کو2024کے لوک سبھا انتخابات سے ہی ریزرویشن فراہم کیا جائے- ایس سی اور ایس ٹی طبقات کی خواتین کے لیے ریزرویشن کے علاوہ او بی سی خواتین کے لیے بھی ریزرویشن کا انتظام کیا جائے-انہوں نے مزید کہاکہ ان میں سے کسی بھی ترمیم کی تجویز کو قبول کیا جا سکتا تھا لیکن دونوں کو ہی خارج کر دیا گیا- بی جے پی کے اس موقف سے اس کی اصل نیت پھر سے بے نقاب ہوئی ہے- حدبندی اور مردم شماری خاتون ریزرویشن کو ٹالنے کے لیے صرف کھوکھلے بہانے ہیں -
دراصل یہ پوری کوشش خاتون ریزرویشن کو نافذ کئے بغیر ہی اسے ایک تھکے ہوئے اور سست پڑے وزیر اعظم کے انتخابی فائدے کے لیے استعمال کرنا تھا-