بنگلورو،30؍اکتوبر(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) ممبئی میں تمام ریاستوں کے حج کمیٹی چیرمینوں اور چیف ایگزی کیٹیو افسران کا اجلاس مرکزی حج کمیٹی کے زیر اہتمام منعقد ہوا۔ جس میں ریاستی حج کمیٹی چیرمین کے طور پر وزیر برائے شہری ترقیات وحج جناب روشن بیگ نے حصہ لیا اور اس موقع پر مرکزی حکومت کی طرف سے وضع کی گئی حج پالیسی میں کئی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس میں فوری اصلاح کرنے کی مانگ کی۔ جناب روشن بیگ نے کہاکہ مرکزی حکومت نے 2018-22 کیلئے جو حج پالیسی وضع کرنے کا منصوبہ مرتب کیا ہے، اس کی بعض سفارشات پر عوامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔خاص طور پر حجاج کرام کیلئے ریزرو کوٹہ جو 70 سال سے زیادہ عمر کے حاجیوں اور درخواست دینے کے بعد تین مرتبہ قرعہ میں ناکام ہونے والے حاجیوں کو چوتھی مرتبہ بغیر قرعہ کے جانے کی اجازت کو ختم کئے جانے پر مسلمانوں میں کافی ناراضگی پائی جاتی ہے۔ جناب روشن بیگ نے مطالبہ کیا کہ 70 سال سے زیادہ عمر کے حاجیوں اور چوتھی بار درخواست دینے والے عازمین کیلئے ریزرو کوٹہ بر قرار رکھا جائے۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت نے نئی پالیسی کے تحت حج کمیٹی کے حجاج پر یہ لازمی قرار دیا ہے کہ روانگی سے پہلے وہ قربانی کے ٹوکن حج کمیٹی سے حاصل کریں ، اس سے پہلے بھی یہ نظام رائج تھا ، لیکن اختیاری تھا۔جناب روشن بیگ نے مطالبہ کیاکہ اس نظام کو برقرار رکھا جائے اور یہ حاجیوں کے اختیار پر طے کیاجائے کہ اگر وہ قربانی کا کوپن لینا چاہیں تو لے سکتے ہیں یا اپنی مرضی کے مطابق قربانی کرسکتے ہیں۔ سفر حج پر بغیر محرم کے خواتین کو جانے کی اجازت دینے کے منصوبے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جناب روشن بیگ نے کہاکہ مرکزی حج کمیٹی اور وزارت اقلیتی امور کو اس سلسلے میں جلد بازی میں فیصلہ لینے کی بجائے علمائے کرام سے مشورہ کے بعد کوئی قدم اٹھانا چاہئے۔امسال بنگلور سے حجاج کرام کی روانگی اور آمد کی مہمات کو انتہائی اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے جناب روشن بیگ نے بتایاکہ حجاج کرام کو لانے لے جانے اور انہیں سہولت پہنچانے میں ایر انڈیا نے بھرپور تعاون کیا۔اسی لئے انہوں نے خواہش کی کہ کرناٹک کے حجاج کیلئے آئندہ ایر انڈیا سے روانہ ہونے کے انتظامات کئے جائیں۔ جناب روشن بیگ نے امسال حج کے دوران مدینہ منورہ میں کرناٹک کے حاجیوں کو رہائش کے مسئلہ پر مرکزی حکومت کو متوجہ کرایا اور کہاکہ مسجد نبویؐ سے کافی دور رہائش کا انتظام کیاگیا تھا، جس کی وجہ سے بیشتر حجاج کرام نے شکایت کی کہ انہیں اپنی عمارتوں سے مسجد نبوی ؐ تک پنج وقتہ نمازوں کیلئے پہنچنے میں کافی پریشانی اٹھانی پڑی۔انہوں نے مرکزی حج کمیٹی سے گذارش کی کہ آئندہ حج کے دوران کرناٹک کے حجاج کرام کو ایسی پریشانی نہ اٹھانی پڑے یہ یقینی بنایا جائے۔حجاج کرام کو زم زم لانے کیلئے مقداری پابندی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہر عازم حج کو صرف پانچ لیٹر زم زم لانے کی اجازت دینا زیادتی ہے۔ بیشتر حجاج کرام اپنا سفر حج مکمل کرکے سوائے زم زم اور کھجور کے کچھ نہیں لاتے ، اسی لئے فوری طور پر مرکزی حکومت یقینی بنائے کہ ہر عازم حج کو کم از کم دس لیٹر زم زم لانے کی اجازت دی جائے۔ اگر ضرورت پڑے تو لگیج اخراجات کے طور پر تھوڑی بہت رقم اس کیلئے حجاج کرام سے اگر لے لی جائے تو حجاج کرام بخوشی یہ رقم ادا کرسکتے ہیں۔