نئی دہلی، 4/مارچ (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ملک کے سب سے بڑے ٹیکس اصلاحات مانے جانے والے جی ایس ٹی کے یکم جولائی سے عمل میں آنے کی امید پیداہوتی نظرآرہی ہے۔جی ایس ٹی کونسل کی ہفتہ کو ہوئی میٹنگ میں اس نئے بالواسطہ ٹیکس نظام کے لیے مجوزہ دو اہم بل، سینٹرل جی ایس ٹی (سی جی ایس ٹی)اور انٹیگریٹیڈ جی ایس ٹی (آئی جی ایس ٹی)قانون کے آخری مسودے کی منظوری دی گئی۔وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ ریاستی جی ایس ٹی (ایس جی ایس ٹی)کے مسودے کی منظوری بھی فوری طور ملنے والی ہے، یہ بل ریاستی اسمبلیوں کی طرف سے منظور کیا جائے گا۔ایس جی ایس ٹی کے ساتھ یوٹی جی ایس ٹی، سی جی ایس ٹی بل کی طرز پر ہوگا اور جی ایس ٹی کونسل 16/مارچ کو میٹنگ میں اس پر غور کرے گی۔جیٹلی نے بتایا کہ سی جی ایس ٹی، آئی جی ایس ٹی اور یوٹی -جی ایس ٹی قانون کو 9/مارچ سے شروع ہونے والے بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی نافذ کرنے کے لیے یکم جولائی کا وقت ممکن نظر آتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سربراہی شرح نسبتا اونچی رکھی جائے گی، لیکن لاگو کی جانے والی شرح 5.12.18اور 28ہی رہے گی۔وہیں، مغربی بنگال کے وزیر خزانہ امت مترا نے کہا کہ ریاستوں نے 26تبدیلی کی اپیل کی تھی، جسے مرکز نے قبول کر لیا ہے، ا س سے ہندوستان کے وفاقی نظام کی خصوصیات ظاہرہوتی ہے۔مترا نے آگے کہا کہ مرکز اور ریاستی حکومتیں ڈھابہ اور چھوٹے ریستوران کاروباریوں کے لیے ایک تصفیہ اسکیم رکھنے پر متفق ہوگئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست یہ مطالبہ کر رہی تھیں کہ ڈھابا اور چھوٹے ریستوران تصفیہ اسکیم اپنا سکتے ہیں۔مرکز اس سے متفق ہو گیا ہے کہ ان چھوٹے کاروباریوں پر 5فیصد ٹیکس لگے گا اور یہ مرکز اور ریاستوں کے درمیان برابر تقسیم کیا جائے گا۔دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے کہا کہ کونسل کی میٹنگ میں مرکزی جی ایس ٹی اور انٹیگریٹیڈ جی ایس ٹی بل پر وسیع پیمانے پر اتفاق رائے بنا ہے۔