نئی دہلی:8/ اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) آبی وسائل، دریا کی ترقی اور گنگا کی بحالی کی وزارت نے، 10جولائی ، 2018 کو لانچ کیے گئے پہلے پکھواڑے کے جل بچاؤ، ویڈیو بناؤ، پرسکار پاؤ مقابلے میں انعام حاصل کرنے والوں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ وارانسی کے جناب شریشٹھ ساہو، بھوپال کے جناب ستیش میوادہ اور بوکارو کے جناب گوپال کمار پرجا پتی نے 10جولائی سے 24جولائی 2018 تک کی مدت میں با الترتریب اوّل، دوئم اور سوئم انعام حاصل کئے۔ اس مقابلے کے انعام یافتگان کو با الترتیب 25،000روپے، 15،000 روپے اور 10،000روپے دیئے جائیں گے۔جل بچاؤ، ویڈیو بناؤ، پرسکار پاؤ، مقابلے کا آغاز مذکورہ وزارت ، حکومت ہند کے پورٹل مائی جی او وی کے تعاؤن سے پانی کو بچانے اور محفوظ رکھنے کے لئے بیداری پھیلانے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ اس مقابلے میں کوئی بھی ہندوستانی شہری حصہ لے سکتا ہے۔ مقابلے میں حصہ لینے کے لئے عنوان پر محض ایک حقیقیاصلی ویڈیو شوٹ کرنا ہوگا۔ اس کے بعد انہیں یہ ویڈیو یوٹیوب پر اَپ لوڈ کرنا ہوگا اور مائی جی او وی سیکشن کے ویڈیو لنک پر جا کر مقابلہ پیج www.mygov.in میں عوامی رسائی والے لنک پر انٹری کرنے کی ضرورت ہو گی۔پہلے پکھواڑے میں مقابلے کے لئے اچھے ریسپونسجواب ملے اور کافی حوصلہ افزاء تھا کہ پہلے پکھواڑے کے مقابلے میں اول، دوئم اور سوئم انعام یافتگان ملک کے مختلف کونوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ مائی جی او وی پر کل 431 اندراج موصول ہوئے ، جن میں سے 38 ویڈیو منتخب کئے گئے۔ ان 38 ویڈیوزکو جانچنے کے بعد مختلف معیارات کی بنیاد پر 3 ویڈیو چنے گئے۔ مقابلے کے یہ حصے دار مختلف عوامل جیسے تخلیقی، اصلیت، تکنیکی مہارت، ویڈیو کی کوالٹی اور بصری اثر (ویژول امپیکٹ) وغیرہ کی بنیاد پر منتخب کئے گئے ہیں۔آبی وسائل، دریا کے فروغ اور گنگا کی بحالی کی وزارت عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ملک کے مختلف حصوں میں پانی کے تحفظ کے لئے کی جا رہی کوششوں، اہم تعاؤن، بہترین پریکٹس، پانی کی مناسب اور سمجھداری سے استعمال اور آبی وسائل کو فروغ دینے اور ان کے انتظام سے متعلق زیادہ سے زیادہ ویڈیو بنائیں۔ حصے داروں سے درخواست ہے کہ وہ صرف اوریجنل ویڈیو ہی اپ لوڈ کریں۔ پانی کے تحفظ پر بنائے گئے کوئی بھی اختراعی اشتہار، کمرشیئل کا بھی خیرمقدم ہے۔ ویڈیو کا وقفہ یا ڈیوریشن کم ازکم 2منٹ اور زیادہ سے زیادہ 10 منٹ تک ہونی چاہئے اور ویڈیو انگریزی، ہندی یا کسی مقامی زبان میں ہو سکتی ہے اور اس میں انڈین کاپی رائٹ ایکٹ، 1957 کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہئے۔ یا تیسری پارٹی کے دانشورانہ اثاثے سے متعلق حقوق کی خلا ف ورزی نہیں ہونی چاہئے۔