برلن26اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )مشرق وسطیٰ سے یورپی ملکوں کو بڑی تعداد میں نقل مکانی کرنے والے پناہ گزینوں کے ان گنت دیگر مسائل کی خبروں کے جلو میں مہاجرین کے حوالے سے جرمنی کے سیکیورٹی اداروں کا ایک لرزہ خیز اسکینڈل سامنے آیا ہے۔جرمنی کے ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ پناہ گزینوں کی نگرانی کے لیے قائم سیکیورٹی کمپنیاں پناہ گزینوں بالخصوص کم عمر افراد کو جسم فروشی کے مکروہ دھندے پر مجبور کرتی ہیں۔ اس چونکا دینے والے انکشاف نے جرمن حکومت کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔جرمنی کے جنرل ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق جرمن چانسلر انجیلا میرکل کے ترجمان اسٹیفن زابیرٹ نے بدھ کو پناہ گزینوں کو جسم فروشی جیسے مکروہ دھندے پر مجبور کرنے والی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ خبریں درست ہیں تو ہم ان واقعات کی باریک بینی سے تحقیقات کرائیں گے۔ یہ بات قطعا ناقابل قبول ہے کہ کوئی کمپنی یا ادارہ پناہ گینوں کی ابتر معاشی حالات کو اپنے ناجائز مقاصد کے لیے استعمال کرے۔ترجمان نے کہا کہ جو شخص بھی جسم فروشی جیسے شرمناک دھندے میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ حکومت اس طرح کے اخلاقی جرائم کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان سے سختی سے نمٹے گی۔زبیرٹ نے ’زیڈ ڈی ایف‘ جنرل ٹی وی کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس خبر کہ تہہ تک جائے گی۔
خیال رہے کہ جرمن ٹی وی چینل پر نشرکی گئی رپورٹ میں ان پناہ گزینوں کے بیانات شامل کیے گئے جنہیں جنوب مغربی جرمنی کے فیلمر سدورف پناہ گزین کیمپ میں بعض سیکیورٹی عناصر کی طرف سے بلیک میل کیا گیا یا انہیں جسم فروشی پر مجبور کیا گیا تھا۔رپورٹ میں ایک سیکیورٹی اہلکار جس کا چہرہ چھپا دیا گیا کو پناہ گزینوں سے یہ کہتے سنا گیا ہے کہ ’مجھے ایک عورت چاہیے یا کوئی نوجوان لڑکا، بہتر ہے کہ لڑکا کم عمر ہو۔ لڑکا یا لڑکی جتنے کم عمر ہوں گے اتنی ان کی قیمت زیادہ ہوگی۔ مجھے ذاتی طور پر ان کی خواہش ہے‘۔ایک دوسرے سیکیورٹی اہلکار نیا نکشاف کیا کہ برلن کی بعض کمپنیاں جسم فروشی کرنے والے پناہ گزینوں اور گاہکوں کے درمیان ڈیل کراتی ہیں اورلین دین یورو کرنسی میں کیا جاتا ہے۔پناہ گزین کیمپ کے ایک سیکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ بہت سے پناہ گزین جسم فروشی کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے پاس پیسہ نہیں اور وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس مکروہ دھندے پر سوچتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کم افراد ہیں جن کی عمریں سولہ سال سے کم ہیں۔ ان کے پاس اور کوئی ذریعہ نہیں۔فیلمرسدورف کیمپ کے ایک 20 سالہ پناہ گزین عمر نے جسم فروشی کے اسکینڈل کی تصدیق کی۔اس نے بتایا کہ ایک روز اس کے پاس ایک سیکیورٹی اہلکار آیا اور پوچھا کہ کیا مجھے پیسا چاہیے میں نے جواب دیا بالکل کیوں نہیں۔ اس نے کہا کہ مجھے ‘سیکس‘ کے لیے کوئی لڑکی چاہیے۔ اس کے عوض تمہیں تیس یا چالیس یورو ملیں گے۔پناہ گزینکا کہنا ہے کہ بیشتر گاہک مرد ہوتے ہیں اور ان کی اکثریت بڑی عمر کے افراد پر مشتمل ہے۔ اس نے بتایا کہ میں نے گاہک سے کہا کہ مجھے پیسا چاہیے مگر اس کا میرے خاندان کو کسی صورت میں علم نہیں ہونا چاہیے۔پناہ گزینوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’موابیٹ ھیلفٹ‘ کی چیئرپرسن ڈیانا ھینگیز کا کہنا ہے کہ ان کے پاس جسم فروشی کرنے والے پناہ گزینوں کے کوئی اعدادو شمار نہیں تاہم ہم ٹیرگارٹن پارک کے 50 ایسے کیسز کی تحقیقات کررہے ہیں، اغلب یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات انٹرنیٹ کے ذریعے ہو رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں خاتون سماجی کارکن کا کہنا تھا کہ جسم فروشی کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، جگہ کی تنگی، جنسی تسکین کی خواہش، خراب سماجی حالات، منشیات کا استعمال، اپنے خاندان کو پیسوں کی فراہمی اہم اسباب ہیں۔ جسم فروشی کرنے والے افراد کی عمریں 12 سے 40 سال کی عمر کے درمیان ہوتی ہیں۔