بریلی،20؍جون (ایس او نیوز؍ایجنسی) توہین رسالتؐ کے خلاف بریلی میں ہزاروں مسلمانوں نے احتجاج کرتے ہوئے گستاخ رسول نپور شرما کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ اسلامیہ میدان میں اتوار کو منعقدہ یہ اجلاس نہایت پُرامن رہا، مگر اس موقع پر اتحاد ملت کونسل کے صدر مولانا توقیر رضا خان نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو مشورہ دیا کہ وہ کلمہ پڑھ لیں تاکہ اسلام کو سمجھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو مشرف بہ اسلام ہوجانا چاہیے۔
پتہ چلا ہے کہ ضلع بریلی کی انتظامیہ نے مولانا توقیر رضا خان کو احتجاج کرنے کے لیے اسلامیہ گراؤنڈ پر زیادہ سے زیادہ 1500 افراد کے ساتھ احتجاج کرنے کی اجازت دی تھی تاہم اس اجلاس میں کم و بیش ایک لاکھ لوگوں نے شرکت کی اور گستاخ رسول نپور شرما کے حضور اکرم ﷺ پر دئے گئے ریمارک پر سخت ناراضگی ظاہر کی۔
مقررین نے کہا کہ حکومت نوپور شرما کی گرفتاری میں کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہی ہے، لہذا اس معاملہ کو اقوام متحدہ (یو این او) میں اٹھایا جائے گا۔ اجلاس جمعہ کے روز منعقد کیا جانا تھا لیکن کشیدگی کے پیش نظر اسے اتوار کے روز کے لئے موخر کر دیا گیا تھا۔
ولانا توقیر رضا نے مسلمانوں کے تئیں انتظامیہ کے دوہرے رویے پر کئی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے اب تک نوپور شرما کو گرفتار نہ کئے جانے پر مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی۔اور حکومت کو اپنا مکتوب بھی پیش کرنے سے انکار کر دیا۔
مولانا توقیر رضا نے کہا کہ وہ مکتوب لے کر آئے ہیں لیکن اسے اس بے ایمان حکومت کے حوالہ نہیں کریں گے کیونکہ اس سے اس حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا ’’ہم امن پسند لوگ ہیں، ہم ٹرین نہیں جلا رہے ہیں، آج بڑے پیمانے پر نوجوان ٹرین جلا رہے ہیں لیکن نہ اُن کے گھروں پر بلڈوزر چلایا جارہا ہے اور نہ کوئی لاٹھی یا گولی چلائی جارہی ہے ۔ ایسے ماحول میں ہم کیسے مان لیں کہ ہماری بات سنی جائے گی۔ ہم اب اس معاملہ کو اللہ کے حوالے کرتے ہیں، اللہ ہی سزا دے گا۔‘‘
مولانا توقیر رضا نے اپنا مکتوب حکومت کے سپرد کرنے کے بجائے اسے یو این او کو بھیجنے کی بات کی اور کہا کہ اب ہم یو این او کے دہلی واقع دفتر پر جا کر آواز اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا ’’اب ہم پوری دنیا کو بتائیں گے کہ ہمارے ساتھ کتنے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، مزید کہا کہ ملک صرف انہی کا نہیں ہیں یہ ہمارا بھی ملک ہے۔‘‘
نریندر مودی کا یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے مولانا توقیر رضا نے یوگی آدتیہ ناتھ کو بہتر اور ’راج دھرم‘ پر عمل کرنے والا قرار دیا۔ انہوں نے کہا ’’ہم یوگی آدتیہ ناتھ کو سب سے زیادہ ناپسند کرتے تھے لیکن ماضی میں کچھ ایسے واقعات پیش آئے ہیں جب یوگی نے ثابت کیا ہے کہ وہ راج دھرم پر عمل کر تے ہیں۔‘‘