برلن، 9؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)جرمن حکام کا کہنا ہے کہ برلن اُن ترک شہریوں کو اپنے ملک میں پناہ دینے کے لیے تیار ہے جو ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی انتظامیہ کے مبینہ ظلم و ستم کا سامنا کر رہے ہیں۔جرمن سیکریٹری خارجہ نے کہا ہے کہ اُن کے ملک کے دروازے ہراُس شخص کے لیے کھلے ہیں جسے سیاسی انتقام کا سامنا ہے۔جرمنی کے سیکریٹری خارجہ میشائل روتھ نے قدامت پسند جرمن روزنامے دی ویلٹ سے بات کرتے ہوئے کہا،جرمنی ایک وسیع النظر ملک ہے اور بنیادی طور پر اِس کے دروازے ہر اُس شخص کے لیے کھلے ہیں جسے سیاسی انتقام کا سامنا ہے۔ ترکی میں حکومت کے تمام ناقدین جان لیں کہ وفاقی جرمن حکومت اظہارِ یکجہتی کے لیے اُن کے ساتھ کھڑی ہے۔خیال رہے کہ رواں برس جولائی میں ترکی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد صحافیوں اور سیاستدانوں کے خلاف صدر ایردوآن کی حکومت کا کریک ڈاؤن جاری ہے۔ ترک حکومت کا موقف ہے کہ یہ گرفتاریاں ترک مبلغ فتح اللہ گولن سے تعلق کے شبے میں کی جا رہی ہیں۔ترکی میں اس حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں جولائی سے اب تک تقریباً170میڈیا ادارے بند کیے جا چکے ہیں جبکہ سوسے زائدصحافیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ اس کارروائی میں جج، اساتذہ، پولیس اہلکار، سرکاری افسران، فوجی اہلکاراور دیگرشعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ دس ہزار سے زائد افراد کو گرفتار یا ان کی ملازمتوں سے برطرف کیاجا چکاہے۔