ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تاریخی چرچ اور مسجد پر بھی اسرائیلی بمباری

تاریخی چرچ اور مسجد پر بھی اسرائیلی بمباری

Sat, 21 Oct 2023 13:28:19    S.O. News Service

غزہ، 21/اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی) اسرائیلی شیطنت اور وحشی پن میں دن بدن اضافہ ہو تا جارہا ہے کیوں کہ اس کی فوج  اسپتال اور رہائشی مکانات کے بعد عبادتگاہوں کو بھی نہیں بخش رہی ہے۔ گزشتہ شب ہونے والی شدید بمباری میں اسرائیلی فوج نے غزہ میں واقع ایک تاریخی چرچ کے ساتھ ساتھ ۲؍ تاریخی اہمیت کی حامل مساجد کو بھی نشانہ بنایا۔ اسرائیلی بمباری میں مسجد العمری الکبیر شہید  ہو گئی جبکہ تاریخی چرچ سینٹ پور فیرئیس کو کافی نقصان پہنچا ہے۔  بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیل نے غزہ اور مغربی کنارے کے رہائشی علاقوں اور مذہبی مقامات پر وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ مغربی کنارے کے علاقے نور الشمس کے ایک پناہ گزین کیمپ پر بمباری کی گئی جس میں ۱۲؍ افراد شہید ہوگئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

اسرائیل نے مغربی کنارے میں ہی کئی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا جن پر حماس کے جنگجوئوں کی موجودگی کا شک تھا تاہم حملے کے وقت عمارتیں خالی ہونے کے باعث جانی نقصان نہیں ہوا۔ اسرائیلی فوج نے اس پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ شمالی علاقے میںایک تاریخی مسجد العمری الکبیر پر بمباری کی جس میں مسجد مکمل طور پر منہدم ہوگئی۔ واضح ہو کہ غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ۳؍ ہزار ۹۰۰؍سے زائد ہوگئی جبکہ زخمیوں کی تعداد ۱۵؍ہزار کے قریب پہنچ گئی۔ دوسری جانب حماس کے حملے میں ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں کی تعداد ۱۴۰۰؍ ہے اور ۴؍ ہزار کے قریب زخمی ہیں۔ اسرائیلی دھمکیوں کے باعث شمالی غزہ سے انخلاء کرنے والوں کی تعداد ۶؍ لاکھ سے تجاوز کرگئی اور ان ۶؍لاکھ پناہ گزینوں کیلئے کوئی ٹھکانہ دستیاب نہیں۔اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سے لاکھوں افراد پانی، خوراک اور بجلی سے محروم ہیں۔  

 دریں اثناء فلسطینی وزارت داخلہ نے کہا کہ غزہ میں واقع آرتھوڈوکس چرچ سینٹ پورفیرئیس کے احاطے میں پناہ لینے والے متعدد بے گھر افراد اسرائیلی حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئے۔ یہ تمام یہاں اسرائیلی بمباری سے بچنے کے لئے ہی چھپے ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میںخواتین اوربچوں کی تعداد زیادہ ہے۔ فی الحال مہلوکین کی تعداد سامنے نہیں آئی ہے لیکن اندازہ ہے کہ ان دونوں حملوں میں ۵۰؍ سے زائد جاں بحق ہوئے ہیں۔اے ایف پی کی رپورٹس کے مطابق فلسطینی وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی حملے میں یونانی آرتھوڈوکس سینٹ پورفیرئیس چرچ کے احاطے میں بڑی تعداد میں شہری شہید اور زخمی ہوئے۔عینی شاہدین نےبتایا کہ بظاہر اس حملے کا مقصد اس عبادتگاہ جس میں غزہ کے بہت سے باسیوں نے فلسطینی علاقوں میں جنگ کے دوران پناہ لی تھی، کے قریب ہدف کو نشانہ بنانا تھا لیکن ساتھ میں چرچ پر بھی بم برسادیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حملے کے نتیجے میں چرچ کے اگلے حصے کو کافی  نقصان پہنچا ہے اور اس سے ملحقہ ایک عمارت منہدم ہو گئی ہے۔ مقامی افراد نے مزید بتایا کہ حملوں کے متعدد زخمیوں کواسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب حملے سے متعلق اسرائیلی فوج نےبتایا کہ وہ اس حملے کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں کیوں کہ چرچ نشانہ نہیں تھا لیکن اس پر بھی حملہ ہوا ہے۔اس لئے جانچ کی جارہی ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی فورسیز نے غزہ کا مسلسل محاصرہ کرکے پانی ، ادویات اور خوارک سمیت ہر چیز کی فراہمی روک دی ہے۔بری طرح تباہ ہو چکے غزہ کے باشندے بین الاقوامی امداد کے منتظر ہیں۔ تمام کوششوں کے باوجود ابھی تک تڑپتے فلسطینیوں تک کوئی باہری امداد نہیں پہنچی ہے۔ غزہ میں کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات کی زبردست قلت ہے۔ مصر سے غزہ جانے والی واحد گزرگاہ رفح  کراسنگ پر دنیا بھر سے بھیجے جانے والی امدادی رسد رکی ہوئی ہے۔ سامان  سے لدے ٹرک غزہ میں داخل ہونے کا کئی دنوں سے انتظار کر ہے ہیں، تاہم سرحد ہنوز بند ہے۔  مصر نے حالانکہ امداد پہنچانے کیلئے رفح کراسنگ کھولنے کا اعلان کیا ہے لیکن اسرائیل کی جانب سے اب تک اجازت نہیں دی گئی ہے جس کی وجہ سے یہ بارڈر بند ہے۔ 


Share: