ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بینگلورو : ٹول گیٹ ایجنسیوں پر ریاستی حکومت کو واجب الادا ہیں 500 کروڑ روپے 

بینگلورو : ٹول گیٹ ایجنسیوں پر ریاستی حکومت کو واجب الادا ہیں 500 کروڑ روپے 

Tue, 12 Sep 2023 12:30:05    S.O. News Service

بینگلورو ،12 / ستمبر (ایس او نیوز) ریاستی حکومت کے محکمہ اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن نے ریاست میں ٹول گیٹ پر وصولی کی ٹھیکیدار 53 کمپنیوں کی جانب سے حکومت کو تقریباً 500 کروڑ روپے واجب الادا ہونے کی بات سامنے لائی ہے ۔ 
    
معلوم ہوا ہے کہ اس واجب الادا رقم کو وصول کرنے کے مقصد سے مذکورہ محکمہ نے نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا کو مراسلہ بھیجتے ہوئے مطالبہ کیا ہے  کہ ٹول وصولی کے لئے ان ٹھیکیداروں کے ساتھ این ایچ اے آئی نے جو اگریمنٹس کیے ہیں ان کی تفصیلات سے محکمہ کو آگاہ کیا جائے ۔
    
دراصل کرناٹکا اسٹامپ ایکٹ 1957 کی دفعہ 32(a) (i)  کے مطابق کسی بھی ٹھیکیدار کو این ایچ اے آئی کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت ٹھیکہ حاصل کرنے کے لئے ادا کی گئی رقم کا 1% حصہ اسٹامپ ڈیوٹی کے طور پر ریاستی حکومت کے کھاتے میں ادا کرنا ہوتا ہے ۔ لیکن لگتا ہے کہ ٹول وصولی کرنے کے لئے جن کمپنیوں نے ٹھیکہ لیا ہے ان کے ساتھ اس قانون پر اب تک سختی کے ساتھ عمل نہیں کیا گیا ہے ۔ 
    
محکمہ کے ذرائع کا کہنا ہے :" اگر ریاست میں کام کر رہی تمام 53 کمپنیوں کی طرف سے ٹھیکہ لینے کے لیے لائسنس / اگریمنٹ کی رقم کا حساب لگایا جائے ، تو اسٹامپ ڈیوٹی کی مد میں ریاست کو تقریباً 500 کروڑ روپے حاصل ہونگے ۔"
    
محکمہ اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن کرناٹکا کی انسپکٹر جنرل بی آر مامتا نے ٹول گیٹ وصولی کی ٹھیکیدار کمپنیوں اور این ایچ اے آئی کو مراسلہ بھیجتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ اسٹامپ ڈیوٹی کے بقایا جات حکومت کو فوری طور پر ادا کیے جائیں ۔ 
    
بتایا جاتا ہے کہ بعض ٹول گیٹ کمپنیوں نے اسٹامپ ڈیوٹی کے طور پر بہت ہی معمولی فیس ادا کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو چونا لگانے کی کوشش کی ہے ۔ ریاست میں ٹول وصولی کرنے والی ممبئی کی ایک ٹھیکیدار کمپںی  نے تو چونا لگانے کی حد ہی کردی ہے کیونکہ اس نے اسٹامپ ڈیوٹی کے نام پر ریاستی حکومت کو صرف 100 روپے ادا کیے ہیں جبکہ نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا کے ساتھ اس کمپنی کا جو اگریمنٹ ہوا ہے اس کی رقم کے حساب قانونی طور پر اس کی طرف سے حکومت کو 5,83,200 روپے اسٹامپ ڈیوٹی ادا ہونی چاہیے ۔ اب ڈپٹی کمشنر اسٹامپس اور ڈسٹرکٹ رجسٹرار بیلگاوی نے کمپنی کو نوٹس بھیجتے ہوئے بقایا 5,83,100 روپے دو ہفتے کے اندر جمع کروانے کی ہدایت دی ہے ۔ 
    
محکمہ کے ایک افسر نے بتایا کہ این ایچ اے آئی کے ساتھ ہوئے کمپنی کے معاہدوں کی تفصیل ملنے اور اس کا جائزہ لینے کے بعد حقیقی بقایا جات کی مکمل تصویر صاف ہو جائے گی ۔ محکمہ نے ان کمپنیوں کو بقایا جات کی ادائیگی کا حکم دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اگر قانون کے مطابق واجب الادا رقمیں ادا نہیں کی گئیں تو پھر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی ۔     


Share: