ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بی جے پی مخالف ریاستوں کو فنڈ مہیا نہ کرانے مودی کا اعلان احمقانہ:سدرامیا

بی جے پی مخالف ریاستوں کو فنڈ مہیا نہ کرانے مودی کا اعلان احمقانہ:سدرامیا

Tue, 24 Oct 2017 00:25:45    S.O. News Service

بنگلورو،23؍اکتوبر(ایس او نیوز؍عبدالحلیم منصور) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان کو احمقانہ قرار دیا کہ مرکزی حکومت کی مخالفت کرنے والی ریاستوں کیلئے ایک نیا پیسہ فنڈ بھی مرکزسے جاری نہیں کیا جائے گا۔ آج دھارواڑ میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہاکہ آئین کے مطابق عہدہ سنبھالنے والے وزیر اعظم کو اس بات سے واقفیت ہونی چاہئے کہ وہ اس ملک کے وفاقی نظام کے تحت سربراہ ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کے اختلافات بھلے ہی ایک دوسرے پر تنقید کا سبب بنیں ،لیکن وفاقی نظام کے سربراہ کی حیثیت سے ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ تمام ریاستوں کے ساتھ انصاف یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کو اپنے اخراجات کیلئے جو رقم ملتی ہے وہ ٹیکس دہندگان کی جمع کردہ رقم ہے۔ اسی لئے وزیر اعظم کو یہ اختیار نہیں ہے کہ ایسا بیان دیں کہ جو ریاستیں مرکزی حکومت پر تنقید کرتی ہیں، وہ مرکز کا فنڈ حاصل نہیں کرسکتیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ مرکزی حکومت کو سرویس ٹیکس ، ایکسائز ، آئی ٹی بی ٹی ایکسپورٹ اور دیگر طریقوں سے جو ٹیکس ملتاہے، کیا وہ ریاستی عوام کی محنت کی کمائی نہیں ہے؟۔ مرکزی حکومت کی طرف سے ریاستوں کو جو گرانٹ دیاجاتاہے وہ کوئی خیرات نہیں ہے، بلکہ ریاستی عوام سے لیا گیا ٹیکس ہی ریاستوں کو لوٹایا جاتا ہے۔ مرکزی حکومت کے گرانٹ پر ریاستوں کا حق ہے اور اس حق کو کوئی حکومت چھین نہیں سکتی۔وفاقی نظام کے تحت حکومت کو ئی بھی اور کسی کی بھی ہو اسے آئین کے مطابق ہی چلنا ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر کہاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے اپنی کامیابیوں کے سلسلہ میں تین جشن منعقد کئے گئے ہیں ۔دھارواڑ میں آج چوتھا جشن ہونے جارہا ہے۔ ان جلسوں کے ذریعہ ریاستی حکومت عوام کے سامنے اپنی کارکردگی پیش کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی عوام نے بہت ساری امنگوں کے ساتھ 2013میں کانگریس کو اقتدار سونپا تھا۔عوام کی ان امنگوں کو پورا کرنے کیلئے حکومت ہمہ وقت کام کررہی ہے۔ انتخابی منشور میں جتنے وعدے کئے گئے تھے ان میں سے بیشتر کو پورا کیاگیاہے۔ اس کے علاوہ بھی حکومت نے سماج کے کمز ور طبقات اور خواتین کی فلاح وبہود کیلئے نئے نئے منصوبوں کو اپنایا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن پارٹیوں کا یہ بیان کہ ریاستی حکومت نے ترقی کیلئے کچھ نہیں کیاہے سفید جھوٹ ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر اپوزیشن لیڈر جگدیش شٹر اور دیگر بی جے پی قائدین کو چیلنج کیا کہ وہ اس بات پر بحث کیلئے تیار ہوجائیں کہ ریاست میں کانگریس حکومت نے عوام کیلئے کیا کیا ہے اور کیا نہیں؟۔ انہوں نے کہاکہ صرف اپنی محفلوں میں بیٹھ کر الزامات لگادینا کافی نہیں، بلکہ برسر عام اعداد وشمار کی بنیاد پر بحث کا سامنا کرنے کی جرأت بھی ہونی چاہئے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہر بار انہوں نے بجٹ پیش کرنے کی کوشش اس نظریہ کے ساتھ کی ہے کہ ریاستی عوام کے مسائل کو تیزی سے سلجھایا جائے ۔ انتخابی منشور میں کئے گئے 165وعدوں میں سے حکومت نے 156پورے کردئے ہیں۔ بقیہ وعدوں کو بھی نئی اسکیموں کے ساتھ جلد ہی پورا کیاجائے گا۔انا بھاگیہ اسکیم کے تحت غریب عوام کو مفت اناج ، اسکولی بچوں کو مفت تعلیم ، کرشی بھاگیہ اسکیم کے تحت قرضوں کی فراہمی وغیرہ شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ودیا شری اسکیم کے تحت بچوں کو ملنے والے ماہانہ مشاہرہ کی رقم میں اضافہ کا اعلان کیاگیاہے، اس کے علاوہ مائتری ، منسوینی ، آروگیہ بھاگیہ اور انیل بھاگیہ اسکیموں کا نفاذ کانگریس حکومت کی طرف سے کیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے کسانوں کے قرضہ جات معاف کرنے میں تذبذب کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی بی جے پی صدر یڈیورپاریاست بھر میں واویلا مچاتے پھر رہے ہیں کہ ریاستی حکومت نے کسانوں کے قرضے معاف نہیں کئے۔ اب حکومت نے ان قرضوں کو معاف کرنے کااعلان کیا ہے، یڈیورپا میں اگر جرأت ہے تو وزیراعظم مودی کو اس بات پردباؤ ڈالیں کہ قومی بینکوں سے کسانوں نے جو قرضے حاصل کئے ہیں ،انہیں معاف کریں۔اس سلسلے میں بی جے پی اگر پہل کرے گی تو کانگریس بھی اس کا ساتھ دینے کیلئے تیار ہے۔ بارہا یڈیورپا کی طرف سے اگلے انتخابات میں بی جے پی کو 150 سیٹوں پر کامیابی کے دعوے پر طنزکرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ بی جے پی اس بار مشن 150 کی بجائے مشن 50 پر کام کرے ،کیونکہ بی جے پی اگر اگلے انتخابات میں 50 سیٹوں پر بھی کامیابی حاصل کرلے تو اس کیلئے وہ غنیمت ہوگا۔ یڈیورپا 150 سیٹوں کا خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔ پچھلے انتخابات میں بی جے پی نے مودی لہر میں کامیابی ضرورحاصل کی ہوگی، لیکن اب نوٹ بندی اور جی ایس ٹی مودی لہر کو بہاکر لے گئی ہے۔ اگلے انتخابات میں اقتدار پر مودی کا رہنا مشکوک نظر آرہا ہے تو بی جے پی اپنے وجود کو کیوں کر بچا پائے گی؟۔کرناٹک میں مودی اور امیت شا کی جوڑی کا جادو چلنے والا نہیں ہے۔ یہ دونوں ریاست میں ایک بارنہیں سو مرتبہ دورہ کرلیں تب بھی بی جے پی ریاست میں اقتدار حاصل کر نہیں پائے گی۔ شیر میسور ٹیپو سلطان شہید کے جنم دن کی مخالفت کرنے بی جے پی کے موقف کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس سے پہلے یڈیورپا نے ٹیپو سلطان کی ٹوپی پہن کر شیر میسور کی تعریفوں کے پل باندھے اور اب اقتدار کی خاطر یڈیورپا کی نظر میں ٹیپو سلطان غدار دکھنے لگے۔ انہوں نے کہاکہ ٹیپو سلطان نہ صرف ایک سچے محب وطن تھے ،بلکہ سیکولر اور انصاف پسند حکمران تھے۔ یڈیورپا نے یہی جملے دہراکر ٹیپو سلطان کے مزار پر انہیں اﷲ کا ولی قرار دے کر قسم کھائی تھی کہ دوبارہ بی جے پی میں نہیں جائیں گے۔ اس وقت یڈیورپانے جو کردار ادا کیاتھا اور آج جس کردار کا مظاہرہ کررہے ہیں اس سے ان کا دوغلا رویہ صاف ظاہر ہوتاہے۔ 2؍ نومبر سے ریاست میں بی جے پی کی طرف سے پریورتن ریلی نکالے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ پانچ سال بی جے پی ریاست کے اقتدار پر رہی اس وقت کرناٹک میں بی جے پی کی طرف سے کیا تبدیلیاں لائی گئیں پہلے وہ عوام پر ظاہر کریں۔ پچھلے لوک سبھا انتخابات سے قبل وزیر اعظم مودی کی طرف سے ملک میں اچھے دن لانے کے وعدہ کا تذکرہ کرتے ہوئے سدرامیا نے سوال کیا کہ اچھے دن آگئے؟۔ کسانوں کیلئے، خواتین کیلئے، غریبوں کیلئے، بے روزگاروں کیلئے ، نوجوانوں کیلئے ، طلبا کیلئے اچھے دن ابھی نہیں آئے۔ اچھے دن دراصل مودی کے ، امت شا کے، امبانی اور ادانی کے آئے ہیں۔ مودی کی طرف سے کی گئی نوٹ بندی کی وجہ سے عام آدمی کی نیندیں حرام ہوگئیں اور کالا دھن رکھنے والوں نے کافی چالاکی سے اپنا کالا دھن سفید کرلیا۔ اس کے بعد مودی نے ملک کے عوام پر جی ایس ٹی کا وار کیا۔ اس کی وجہ سے پچھلے دس سال کے دوران عالمی سطح کے معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر منموہن سنگھ کی طرف سے ملک کے معاشی نظام کو بہتر بنانے کیلئے کی گئی محنت پر پانی پھر گیا اور ملک کا جی ٹی پی دو فیصد گھٹ گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ پچھلے پانچ سال کے دوران ریاستی حکومت نے اپنے وعدوں کے مطابق کام کیاہے، اس حکومت کو یقین ہے کہ اگلے پانچ سال بھی وہ اسی جذبے کے ساتھ عوام کی خدمت جاری رکھے گی۔


Share: