لکھنؤ 9/ ڈسمبر (ایس او نیوز) بی ایس پی کی قومی صدر مایاوتی کی لکھنؤ میں پارٹی لیڈروں کی قومی سطح کی میٹنگ سے ایک دن پہلے، بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے ہفتہ کے روز امروہہ سے رکن پارلیمنٹ دانش علی کو پارٹی مخالف سرگرمیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے پارٹی سے معطل کر دیا ہے۔
پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری ستیش چندرمشرا نے ہفتہ کو جاری کردہ ایک ریلیز میں بتایا کہ "آپ سے کئی بار کہا گیا ہے کہ پارٹی کے نظریے، نظم و ضبط اور پالیسیوں کے خلاف بولنے اور کام کرنے سے باز رہیں لیکن آپ اب بھی ایسا کر رہے ہیں۔"
بی ایس پی (بہوجن سماج پارٹی) سے معطل کیے جانے کے بعد لوک سبھا رکن دانش علی نے سخت رد عمل ظاہرکرتے ہوئے پارٹی کے ذریعہ اپنے خلاف کیے گئے فیصلہ پر مایاوتی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’بی ایس پی چیف مایاوتی کا یہ فیصلہ افسوسناک ہے اور اگر بی جے پی کی پالیسیوں کی مخالفت کرنا جرم ہے تو وہ کوئی بھی سزا بھگتنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘
دانش علی نے ’ایکس‘ پر پوسٹ لکھا کہ ’’میں بہن مایاوتی جی کا ہمیشہ شکرگزار رہوں گا کہ انھوں نے مجھے ٹکٹ دے کر لوک سبھا کا رکن بننے میں مدد کی۔ بہن جی نے مجھے بی ایس پارلیمانی پارٹی کا لیڈر بھی بنایا۔ مجھے ہمیشہ ان کی حمایت ملی۔ (لیکن) ان کا آج کا فیصلہ افسوسناک ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’میں نے اپنی پوری محنت اور لگن سے بی ایس پی کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے اور کبھی بھی کسی طرح سے پارٹی مخالف کام نہیں کیا ہے۔ اس بات کی گواہ امروہہ علاقہ کی عوام ہے۔‘‘